قومی خبریں

وادی کشمیر میں 'فرائیڈے لاک ڈاؤن' ختم، بیشتر مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی

وادی کشمیر میں 'فرائیڈے لاک ڈاؤن' ختم ہونے کے ساتھ ہی جامع مساجد میں محراب و منبر گونجنے لگے تاہم وادی کے سب سے بڑے معابد نوہٹہ کی جامع مسجد اور درگاہ حضرت بل میں نماز جمعہ ایک بار پھر ادا نہیں کی گئی

سرینگر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرتے فرزندانِ توحید (فائل تصویر)
سرینگر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرتے فرزندانِ توحید (فائل تصویر) 

سری نگر: وادی کشمیر میں 'فرائیڈے لاک ڈاؤن' ختم ہونے کے ساتھ ہی جمعہ کے روز جامع مساجد میں محراب و منبر گونجنے لگے تاہم وادی کے سب سے بڑے معابد نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد اور درگاہ حضرت بل میں نماز جمعہ ایک بار پھر ادا نہیں کی گئی۔

بتا دیں کہ وادی میں گذشتہ قریب ایک ماہ سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود بھی 'ویک اینڈز' بشمول جمعہ کے دن مکمل پابندیاں عائد رہتی تھیں جس کی وجہ سے جہاں معمولات زندگی معطل رہتے تھے وہیں کسی بھی علاقے میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جاتی تھی۔

Published: undefined

ادھر وادی کشمیر میں جمعے کے روز کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں رہی جس سے جہاں بازار کھلے رہے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل جاری رہی وہیں بیشتر علاقوں میں نماز جمعہ بھی ادا کی گئی۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ شہر میں کہیں بھی کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں تھیں۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کا اوقاف مارکیٹ بھی کھلا تھا لیکن جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ درگاہ حضرت بل میں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی بلکہ مقامی لوگوں کے مطابق وہاں پولیس نے دکانیں بھی بند کرائیں۔ موصوف نے کہا کہ سری نگر کے بیشتر جامع مساجد میں نماز جمعہ کورونا گائیڈ لائنز پر عمل کر کے ادا کی گئی۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ مساجد کے اندر سماجی دوری کا خیال رکھا گیا تھا اور نمازیوں نے فیس ماسک لگا رکھے تھے۔ وادی کے دیگر اضلاع میں بھی جمعہ کے روز کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں رہی اور جامع مساجد میں کئی ہفتوں کے بعد نماز جمعہ ادا کی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ کورونا کی دوسری لہر میں تیزی کے ساتھ ہی جموں وکشمیر میں مکمل کورونا کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا بعد ازاں لہر میں کمی واقع ساتھ ہونے کے ساتھ ہی لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined