قومی خبریں

دہلی کانگریس کے نائب صدر علی مہدی کا مفاد پرستانہ قدم مسلم رائے دہندگان اور کانگریس کو دھوکہ: طارق صدیقی

کانگریس کے سینئر لیڈر طارق صدیقی نے کہا کہ اس بار دہلی ایم سی ڈی الیکشن میں مسلمانوں نے کانگریس پارٹی کو بھرپور حمایت کی جس کے نتیجے میں مصطفیٰ آباد اسمبلی حلقہ میں کانگریس کا گراف اونچا ہوا۔

کانگریس لیڈر طارق صدیقی
کانگریس لیڈر طارق صدیقی 

نئی دہلی: دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں مسلم حلقوں کے لوگوں نے کانگریس کو بھرپور حمایت کی جس کے نتیجے میں کئی امیدوار کامیاب ہوئے۔ مصطفی آباد اسمبلی حلقہ سے دو امیدوار سبیلہ اور نازیہ کامیاب ہوئیں جس میں حسن احمد اور علی مہدی نے بھر پور محنت کی، لیکن عوام کے جذبات کا خیال نہ رکھتے ہوئے دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر علی مہدی عام آدمی پارٹی میں شامل ہو گئے۔

Published: undefined

اس تعلق سے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر طارق صدیقی نے کہا کہ اس بار دہلی ایم سی ڈی الیکشن میں مسلمانوں نے کانگریس پارٹی کو بھرپور حمایت کی جس کے نتیجے میں مذکورہ حلقوں میں کانگریس کا گراف اونچا ہوا، لیکن آج دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر اور دو کونسلرعام آدمی پارٹی میں شامل ہوئے اس سے مسلم رائے دہندگان کو دلی صدمہ پہنچا ہے۔ حالانکہ اس سے پارٹی پر کچھ فرق نہیں پڑے گا بلکہ ایسے مفاد پرستوں کو عوام خود وقت پڑنے پر جواب دے گی۔

Published: undefined

طارق صدیقی نے کہا کہ کانگریس نے علی مہدی کے خاندان کو بہت کچھ نوازا اور دہلی اسٹیٹ کے اہم عہدوں پر فائز رہے، ساتھ ہی اسٹار کمپینر بھی رہے، لیکن انہوں نے ان سب احسانات کو فراموش کرتے ہوئے اسی پارٹی میں شامل ہو گئے جس پر کل تک لعن طعن کرتے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر انل چودھری کو بھی استعفیٰ دینا چاہئے اور کانگریس کی اعلی کمان کو چاہئے کہ وہ پھر سے دہلی کانگریس کمیٹی کی از سر نو تشکیل دے تاکہ کانگریس پارٹی کو مزید تعمیر و ترقی سے ہمکنار کیا جا سکے۔ انہوں نے ان تمام رائے دہندگان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کانگریس پارٹی کو دل سے ووٹ کیا اور اس کے گراف کو اونچا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined