قومی خبریں

عمر خالد سمیت دیگر ملزمین کے لیے فیصلے کا دن! کیا 5 سال بعد ملے گی ضمانت؟، سبھی کی نظریں سپریم کورٹ پر مرکوز

عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان ودیگر پر یواے پی اے اور اس وقت کے آئی پی سی کی دفعات کے تحت فروری 2020 کے دہلی فسادات کے ’ماسٹر مائنڈ‘ ہونے کا الزام ہے۔

<div class="paragraphs"><p>عمر خالد اور شرجیل امام، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

عمر خالد اور شرجیل امام، تصویر سوشل میڈیا

 

 سال 2020 کے دہلی فسادات کے الزام میں گزشتہ 5 سالوں سے جیل میں بند طلبہ رہنماؤں عمر خالد اور شرجیل امام کے لئے آج ’سپریم‘ فیصلے کا دن ہے۔ اس معاملے پرسبھی کی نظر اس بات پر مرکوز ہیں کہ عمر خالد اور دیگر ملزمین جیل سے باہر آئیں گے یا نہیں، اس کا فیصلہ آج ہوجائے گا۔ سپریم کورٹ آج 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ’بڑی سازش‘ کیس میں خالد اور امام سمیت 5 دیگر ملزمین کی ضمانت کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ جسٹس رویندر کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے ملزمین اور دہلی پولیس کے دلائل سننے کے بعد 10 دسمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

Published: undefined

دہلی پولیس نے ملزمین کی رہائی کی مخالفت میں انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات کا حوالہ دیا ہے۔شرجیل امام 28 جنوری 2020 سے جیل میں ہیں جب کہ عمر خالد 13 ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔ امام اور خالد نے ستمبر 2023 کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس میں الزامات کی سنگینی اور مبینہ سازش کی سنگین نوعیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

Published: undefined

طلبا رہنماعمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد پر یواے پی اے اور اس وقت کے موجودہ تعزیرات ہند (آئی پی سی)  کی مختلف دفعات کے تحت فروری 2020 کے دہلی فسادات کے ’ماسٹر مائنڈ‘ ہونے کا الزام ہے۔ یہ فسادات شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) اور مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف مظاہروں کے درمیان ہوئے تھے جس کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ اسے کئی دہائیوں میں قومی راجدھانی میں ہونے والے بدترین فرقہ وارانہ تشدد میں سے ایک کہا جاتا ہے۔

Published: undefined

ملزمین کی ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے دہلی پولیس نے بار بار کہا ہے کہ دہلی میں فسادات ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھے۔ سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے اپنے حلف نامہ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ فسادات ہندوستان کو غیر مستحکم کرنے اور ملک کی بین الاقوامی بدنامی، ایک منصوبہ بند ’رجیم چینج آپریشن‘(اقتدار کی تبدیلی) کے مقصد سے کیے گئے تھے۔ گواہوں کے بیانات، کال ریکارڈ، چیٹ پیغامات اور الیکٹرانک شواہد کی بنیاد پر دہلی پولیس نے دلیل دی کہ ملزمین ’فرقہ وارانہ بنیاد پر رچی گئی گہری سازش‘ کا حصہ تھے۔ پولیس نے یہ بھی الزام لگایا کہ ملزمین جان بوجھ کر ’غیر ضروری درخواستیں‘ داخل کر کے مقدمے کی سماعت میں تاخیر کر رہے ہیں اور ’تفتیش میں تعاون‘ نہیں کر رہے ہیں۔

Published: undefined

تقریباً 900 گواہوں کی وجہ سے ٹرائل میں برسوں لگنے کی دلیل کو پولیس نے’ضمانت پانے کے لیے من گھڑنت وہم‘ بتایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صرف 100-150 گواہ متعلقہ ہیں اور اگر ملزمین تعاون کریں تو کارروائی تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ یو اے پی اے کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پولیس نے اپنے حلف نامہ میں دہرایا کہ دہشت گردی سے متعلق سنگین مقدمات میں’ضمانت نہیں،جیل ہی اصول ہے‘۔

Published: undefined

اس سلسلے میں فریق دفاع نے طویل قید اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر کو ضمانت کی بنیاد بنایا ہے اور دلیلیں دی ہیں کہ عمر خالد اور شرجیل امام ستمبر 2020 سے زیر حراست ہیں جب کہ معاملہ ابھی الزام طے ہونے کے مرحلے میں ہے۔ استغاثہ کی چارج شیٹ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں دسیوں ہزار صفحات پر مشتمل الیکٹرانک شواہد شامل ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے تسلیم کیا تھا کہ ’ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ ‘، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ طویل قید اپنے آپ میں ضمانت کے لیے بنیاد نہیں ہو سکتی، خاص طور پر کیس کے ’خصوصی حقائق اور حالات‘ کے پیش نظر۔ یادرہے کہ گزشتہ ماہ دہلی کی ایک ٹرائل کورٹ نے عمر خالد کو اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے دو ہفتوں کی عبوری ضمانت دی تھی۔ عبوری ریلیف کی مدت ختم ہونے کے بعد خالد نے 29 دسمبر کو جیل میں خودسپردگی کردی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined