’نریندر مودی کو چراغ مل جائے تو وہ کیا مانگیں گے؟‘ کانگریس نے ویڈیو کے ذریعہ چلائے طنز کے تیر
کانگریس نے ایک ویڈیو کے ذریعہ وزیر اعظم مودی پر طنزیہ حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے ہر طرف نفرت کا بازار ہو، دوست اڈانی کا پوری دنیا میں کاروبار ہو، دنیا ایپسٹین کا نام بھول جائے۔
اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس وزیر اعظم نریندر مودی پر لگاتار حملے کر رہی ہے۔ یہ حملے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے لیے بھی ہو رہے ہیں اور یوتھ کانگریس کارکنان کے خلاف ہو رہی کارروائی کے لیے بھی۔ ایسپٹین معاملہ پر وزیر اعظم کی خاموشی کو بھی سرکردہ کانگریس لیڈران تنقید کا نشانہ بنا رہے۔ اس درمیان کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ویڈیو جاری کر طنزیہ انداز میں وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اس ویڈیو میں طنز کے تیر چلاتے ہوئے کانگریس نے سوال کیا ہے کہ سوچیے، اگر نریندر مودی کو ایک چراغ مل جائے تو وہ کیا مانگیں گے؟‘‘ اس سوال کو قائم کرنے کے بعد کانگریس نے پی ایم مودی کی جن ممکنہ خواہشات کو پیش کیا ہے، وہ اس طرح ہیں:
ہر طرف نفرت کا بازار ہو
دوست اڈانی کا پوری دنیا میں کاروبار ہو
دنیا ایپسٹین کا نام بھول جائے
نریندر سرینڈر بول کر کوئی مودی کو نہ چِڑھائے
لوگ ان سے سوال پوچھنا چھوڑ دیں
سرکار سے کام کرنے کی ساری امیدیں توڑ دیں
لوگ مہنگائی و بے روزگاری پر آواز نہ اٹھائیں
بی جے پی کے لیڈران جم کر لوٹ کھسوٹ کریں لیکن کبھی پکڑے نہ جائیں
مشروم کا ناشتہ کر بیرون ملکی سفر چلتا رہے
ووٹ چوری کر بی جے پی کی حکومت بنتی رہے
کانگریس نے مزید ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ’ڈرپوک‘ قرار دیا گیا ہے۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آج ملک انھیں ’ڈرپوک‘ کہہ رہا ہے، اور اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ انگریزی زبان میں جاری اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ’’آج ملک کہہ رہا ہے ’مودی ڈرپوک ہے‘، اور اس کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں ہے، بلکہ کئی وجوہات ہیں۔‘‘ آگے کہا گیا ہے کہ ’’11 سال قبل جو انھوں نے وعدے کیے تھے، آج حالات اس کے برعکس ہیں۔ شروعات وہاں سے ہوتی ہے جب ان سے ڈگری دکھانے کے لیے کہا جاتا ہے، لیکن ڈرپوک مودی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آج وہی ڈرپوک پریس کانفرنس کرنے سے ڈرتے ہیں، 11 سال میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کیا۔‘‘
اس ویڈیو میں سخت انداز اختیار کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ’’ڈرپوک مودی پارلیمنٹ میں کسانوں، نوجوانوں کی بے روزگاری اور مہنگائی پر مباحث سے بھی ڈرتے ہیں۔ ڈرپوک اتنے ہیں کہ خاتون اراکین پارلیمنٹ سے ڈرتے ہیں۔ یہ اے آئی ویڈیوز سے بھی ڈرتے ہیں۔‘‘ ویڈیو میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’’ڈرپوک مودی عام ’ٹی-شرٹ‘ سے بھی ڈرتے ہیں۔ کچھ ایسے نام بھی ہیں جن کو لینے سے ڈرپوک مودی گھبرا جاتے ہیں، مثلاً جیفری ایپسٹین، شی جنپنگ، ڈونالڈ ٹرمپ۔‘‘ کانگریس کا کہنا ہے کہ اہم ایشوز پر پی ایم مودی کا خاموش رہ جانا ثابت کرتا ہے کہ وہ ’ڈرپوک‘ ہیں۔ ویڈیو کے آخر میں یہی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ’’مضبوط لیڈران سوالوں کا جواب دیتے ہیں اور ڈرپوک لیڈران خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے اگر عوام ’مودی ڈرپوک ہے‘ کہتی ہے، تو وہ اب تک سامنے موجود ریکارڈ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔