
اترپردیش کے مؤ صدر سے سہیلدیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) کے رکن اسمبلی عباس انصاری کی مشکلات میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ 2022 میں اسمبلی انتخاب کے دوران دائر کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی معاملے میں ایم پی/ایم ایل ے کورٹ نے بدھ کو فیصلے میں انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے الزام طے کر دیا ہے۔ اب اس معاملے میں سماعت کی آئندہ تاریخ عدالت نے 4 فروری طے کی ہے۔ واضح رہے کہ فروری 2022 میں جنوبی ٹولہ تھانے میں رکن اسمبلی عباس انصاری کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ایک معاملہ میں جیل ہونے کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ ہو گئی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی اور رکنیت برقرار رہی اب ایک بار پھر ان کے اوپر مصیبت آ گئی ہے۔
Published: undefined
وکیل داروغہ سنگھ نے بتایا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے لیے 2022 میں انصاری کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 133 (انتخاب میں غیر قانونی طور پر گاڑیاں کرایے پر لینے یا خریدنے پر سزا) کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ بعد میں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں الزام سے بری کرنے کی درخواست داخل کی گئی، لیکن اسے خارج کر دیا گیا۔ اس کے بعد چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ڈاکٹر کے پی سنگھ کی خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت نے بدھ کو رکن اسمبلی کے خلاف الزام طے کیے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ الزام طے ہونے کے بعد عدالت نے سماعت کی اگلی تاریخ 4 فروری طے کی ہے۔
Published: undefined
حالانکہ اب تک اس معاملہ میں رکن اسمبلی عباس انصاری کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن پوروانچل کی اس سیٹ پر عدالت کے فیصلے کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں کی نگاہیں مرکوز ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ عباس انصاری سابق رکن اسمبلی مختار انصاری کے بیٹے ہیں۔ ان کی نزدیکی اب اپنی پارٹی سہیلدیو بھارتیہ سماج پارٹی کے بجائے سماجوادی پارٹی اور اکھلیش یادو کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخاب سماجوادی پارٹی سے لڑ سکتے ہیں۔
Published: undefined