بریلی: دلت نوجوان کے قتل کے بعد ناراض اہل خانہ اور گاؤں والوں نے جام کیا سڑک
متوفی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ واقعہ کے بعد پولیس نے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار نہیں کیا۔ جب راہل اسپتال میں داخل تھا، اس وقت پولیس معاملے کو رفع دفع کرنے اور سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ بنا رہی تھی۔

اترپردیش کے بریلی ضلع میں قتل کا ایک دردناک واقعہ پیش آیا ہے۔ بارہ دری تھانہ حلقہ کے ڈوہرا گاؤں کے رہنے والے 26 سالہ دلت نوجوان راہل ساگر کو دبنگوں نے بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ ایک ہفتہ تک اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ جیسے ہی نوجوان کی موت کی خبر گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں پھیلی، لوگوں میں شدید غصہ دیکھنے کو ملا۔ راہل کی موت کے بعد اہل خانہ اور گاؤں والوں نے پوسٹ مارٹم ہاؤس کے سامنے لاش رکھ کر ہائی وے جام کر دیا۔ احتجاج کر رہے لوگوں نے پولیس پر شدید الزامات عائد کیے اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ موقع پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور افسران کے ذریعہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق اہل خانہ کا الزام ہے کہ یہ واقعہ 14 جنوری کا ہے۔ متوفی کے والد پپو نے بتایا کہ راہل اپنے سالے کے اسپتال کے بل کے لیے گھر سے 30 ہزار روپے لے کر نکلا تھا۔ راستے میں وہ اپنے 2 ساتھیوں لالو اور سچن کے ساتھ ایک شخص بھیما سے ملنے گیا تھا۔ بھیما پر راہل کے 20 ہزار روپے قرض تھے، جسے وہ کافی وقت سے مانگ رہا تھا۔ جب راہل نے پیسے لوٹانے کی بات کی تو بھیما ناراض ہو گیا۔ اسی بات پر بھیما نے اپنے ساتھی لکی لبھیڑا اور آکاش ٹھاکر کو بلا لیا۔ تینوں نے مل کر راہل کو کاشی رام پارک کے پاس گھیر لیا اور لاٹھی ڈنڈوں سے بری طرح پیٹنا شروع کر دیا۔ راہل کو تب تک مارا گیا، جب تک وہ بے ہوش کر زمین پر گر نہیں گیا۔
حملے کے دوران ملزمان نے راہل سے 30 ہزار روپے اور اس کا موبائل فون بھی چھین لیا۔ راہل کے ساتھ موجود اس کے دوستوں نے مداخلت کی کوشش کی، لیکن ملزمان نے انہیں بھی جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ کسی طرح راہل کو وہاں سے اٹھا کر پہلے ابھیرام اسپتال اور پھر نارائن اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ راہل کی حالت انتہائی سنگین تھی، ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن تقریباً ایک ہفتہ بعد اس کی موت ہو گئی۔
متوفی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ واقعہ کے بعد پولیس نے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب راہل اسپتال میں داخل تھا، اس وقت پولیس معاملے کو رفع دفع کرنے اور سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ بنا رہی تھی۔ اسی ناراضگی کی وجہ سے اہل خانہ اور گاؤں والوں نے ہائی وے جام کر دیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تمام ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے اور جن پولیس اہلکاروں نے لاپرواہی برتی ان کے خلاف بھی کارروائی ہو۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک انہیں انصاف کا بھروسہ نہیں ملے گا، تب تک احتجاج جاری رہے گا۔
قابل ذکر ہے کہ راہل مزدوری کر کے اپنے خاندان کی کفالت کرتا تھا۔ اس کی موت کے بعد گھر میں کمانے والا کوئی نہیں بچا ہے۔ وہ اپنے پیچھے بیوی شیوانی اور 3 چھوٹے بچوں کو چھوڑ گیا ہے۔ سب سے چھوٹا محض 15 دن کا ہے۔ بڑے بیٹے آرین کی عمر 4 سال ہے اور دوسرے بیٹے کی عمر ڈھائی سال ہے۔ پورے گاؤں میں سوگ کا ماحول ہے، ہر آنکھ نم ہے اور ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ آخر غریب اور دلت خاندان کو کب انصاف ملے گا۔ گاؤں والوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 21 Jan 2026, 8:11 PM