قومی خبریں

بی ایم سی انتخاب: انگلی پر لگائی جا رہی ’سیاہی‘ پر ہنگامہ، کانگریس نے بھی الیکشن کمیشن پر اٹھائے سوال

شیوسینا یو بی ٹی چیف ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ووٹنگ کے بعد ووٹرس کی انگلیوں پر لگائی جانے والی پکی سیاہی کو نیل پالش ریموور اور سینیٹائزر سے بہ آسانی ہٹایا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ووٹنگ کی علامتی تصویر</p></div>

ووٹنگ کی علامتی تصویر

 

بی ایم سی (برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن) انتخاب میں ووٹنگ کے دوران انگلی پر لگائی جانے والی سیاہی سے متعلق تنازعہ کافی بڑھ گیا ہے۔ راج ٹھاکرے نے پہلے ہی اس سلسلے میں سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ووٹرس کی انگلی پر بہ آسانی مٹنے والی سیاہی لگائی جا رہی ہے، اب کانگریس نے بھی اس معاملہ میں الیکشن کمیشن پر حملہ کیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انتخابی عمل کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ مہاراشٹر کانگریس کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے ایک ویڈیو بھی اس بارے میں جاری کی گئی ہے۔

Published: undefined

ہرش وردھن سپکال نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’آج الیکشن میں سیاہی کی جگہ مارکر استعمال ہو رہے ہیں۔ ہر کوئی پہلے سے ہی مارکر کو مٹانے کے مختلف طریقے جانتا ہے۔ اس لیے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے بعد ووٹرز نیل پالش ریموور اور سرکہ جیسی چیزوں کا استعمال کر کے اپنی انگلیوں پر سیاہی مٹا رہے ہیں، اور پھر دوسرے پولنگ اسٹیشن پر کھڑے ہوکر دوبارہ ووٹ ڈال رہے ہیں۔ یہ دراصل جمہوریت کا مذاق ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہمارے آئین نے سب کو ووٹ کا مساوی حق دیا ہے۔ کوئی تاجر ہو، وزیر اعظم ہو یا عام شہری، صرف ایک ووٹ ڈال سکتا ہے۔ اگر آج ووٹنگ کھلے عام اور بار بار ہو رہی ہے تو کیا یہ آئین کے دیے گئے حق کی توہین نہیں؟‘‘

Published: undefined

اس طرح کے الزامات کئی اپوزیشن لیڈران عائد کر رہے ہیں، لیکن ریاستی الیکشن کمیشن اور بی ایم سی نے الزامات کو خارج کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن کا دفاع کرتی ہوئی دکھائی دے رہے ہیں۔ انھوں نے اپوزیشن پارٹیوں پر ہی حملہ شروع کر دیا ہے اور انتخابات میں کسی بھی بے ضابطگی کی بات سے انکار کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ’’ریاستی الیکشن کمیشن نے 19 نومبر 2011 اور 28 نومبر 2011 کو ووٹرس کی انگلیوں پر سیاہی لگانے کے لیے مارکر قلم کے استعمال کے بارے میں آرڈرس جاری کیے تھے۔ تب سے مقامی سیلف گورنمنٹ الیکشن میں ووٹرس کی انگلیوں پر نشان لگانے کے لیے مارکر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘

Published: undefined

میڈیا رپورٹس کے مطابق شیوسینا یو بی ٹی چیف ادھو ٹھاکرے نے بھی اس معاملہ میں اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کو مہاراشٹر میں 29 میونسپل کارپوریشن میں ہو رہے بلدیاتی انتخابات میں بے ضابطگی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے بعد ووٹرس کی انگلیوں پر لگائی جانے والی پکی سیاہی کو نیل پالش ریموور اور سینیٹائزر سے بہ آسانی ہٹایا جا رہا ہے، جس سے کچھ لوگ ایک سے زیادہ بار ووٹ دے رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صورت حال برسراقتدار مہایوتی اور ریاستی الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کا ثبوت ہے۔ ٹھاکرے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’شاید یہ پہلا انتخاب ہے جہاں اتنی شکایتیں آ رہی ہیں کہ لگائی گئی سیاہی فوراً ختم ہو جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن اور برسراقتدار پارٹی کے درمیان ملی بھگت ہے۔ کئی گڑبڑیاں ہو رہی ہیں۔‘‘

Published: undefined

الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے الیکٹورل باڈی پر طنز بھی کیا۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا انھوں نے سیاہی کو اتنی آسانی سے ہٹانے کے لیے کوئی سینیٹائزر ایجنسی ہایر کی تھی۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ’’مجھے لگتا ہے الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ انھوں نے گزشتہ 9 سالوں میں آخر کیا ہی کیا ہے؟‘‘

Published: undefined

اس سے قبل مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کہا تھا کہ ’’پہلے جو سیاہی استعمال ہوتی تھی، اسے بدل کر نیا قلم استعمال کیا جا رہا ہے، اور اس نئے قلم کو لے کر شکایتیں بھی آ رہی ہیں۔ اگر آپ ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرتے ہیں، تو سیاہی غائب ہو جاتی ہے۔ اب صرف یہی متبادل بچا ہے کہ سیاہی لگاؤ، باہر جاؤ، اسے پونچھو، اور پھر اندر جا کر دوبارہ ووٹ دو۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اشتہار کے لیے نیا اصول نافذ کیا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اقتدار میں بنے رہنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ جب کوئی اس طرح دھوکہ سے اقتدار میں آتا ہے تو ہم اسے انتخاب نہیں کہتے۔ میں لوگوں، شیوسینا کارکنان اور ماتو شری کارکنان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان سب چیزوں سے محتاظ رہیں۔ ایک آدمی 2 مرتبہ ووٹ ڈالتے پکڑا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined