بی ایم سی انتخابات: نئے ’پی اے ڈی یو‘ آلے کے استعمال پر تنازعہ، الیکشن کمیشن تنقید کی زد میں
بی ایم سی انتخابات سے قبل نئے پی اے ڈی یو آلے کی خاموش شمولیت اور پولنگ کے دن ووٹروں سے ملاقات کی اجازت پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ اپوزیشن نے شفافیت پر سوال اٹھائے، جبکہ حکام نے اسے بیک اپ ڈسپلے قرار دیا

مہاراشٹر میں بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) اور ریاست کی 29 دیگر بلدیاتی کارپوریشنوں کے لیے ووٹنگ جاری ہے، تاہم پولنگ کے ساتھ ہی انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ ایک نئے آلے پی اے ڈی یو (پرنٹنگ آکزیلیری ڈسپلے یونٹ) کے استعمال اور پولنگ کے دن امیدواروں کو ووٹروں سے ملاقات کی اجازت دینے کے فیصلے نے ریاستی الیکشن کمیشن کو تنقید کی زد میں لا دیا ہے۔
انتخابی عمل کے دوران ہی اپوزیشن جماعتوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے ووٹوں میں ہیرا پھیری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ بی ایم سی انتخابات میں پہلی بار پی اے ڈی یو آلے کو متعارف کرایا گیا ہے، جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلاف سامنے آیا ہے۔
مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے سمیت کئی اپوزیشن رہنما پولنگ کے دوران ہی اس آلے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو نہ تو اس نئے نظام کے بارے میں پیشگی آگاہ کیا گیا اور نہ ہی اس کی عملی وضاحت فراہم کی گئی۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے بعد ووٹوں میں گڑبڑی کے الزامات سامنے آ چکے ہیں، ایسے میں کسی نئے الیکٹرانک آلے کا استعمال شکوک کو مزید بڑھاتا ہے۔
راج ٹھاکرے نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ووٹنگ جاری ہونے کے باوجود پی اے ڈی یو کے استعمال سے متعلق ابہام برقرار ہے اور یہ صورتحال عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اگر آلہ محض تکنیکی سہولت ہے تو اسے انتخابات سے قبل تمام جماعتوں کے سامنے واضح کیا جانا چاہیے تھا۔
ادھر، بی ایم سی کے کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر بھوشن گگرانی نے ووٹنگ کے دوران ہی ایک پریس کانفرنس میں پی اے ڈی یو نظام کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ آلہ شہری انتخابات میں پہلی بار استعمال کیا جا رہا ہے، جسے بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ (بی ایچ ای ایل) نے تیار کیا ہے، اور بی ایم سی انتخابات کے لیے 140 یونٹس فراہم کیے گئے ہیں۔
گگرانی کے مطابق پی اے ڈی یو ایک معاون ڈسپلے آلہ ہے، جو ای وی ایم کے کنٹرول اور بیلٹ یونٹس کے ساتھ منسلک رہتا ہے۔ اگر ووٹنگ کے دوران کنٹرول یونٹ کا ڈسپلے خراب ہو جائے تو پی اے ڈی یو متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، پولنگ اسٹیشن پر معلومات کو بڑے اسکرین پر دکھانے میں بھی اس سے مدد لی جا سکتی ہے۔
تاہم، اپوزیشن کی جانب سے اس نکتے پر شدید اعتراض کیا جا رہا ہے کہ پی اے ڈی یو، وی وی پی اے ٹی کی طرح کاغذی پرچی فراہم نہیں کرتا۔ ناقدین کے مطابق، جب ووٹنگ جاری ہے تو شفافیت کے تقاضے مزید سخت ہونے چاہئیں، نہ کہ ایسے آلے شامل کیے جائیں جن پر سیاسی اتفاق رائے موجود نہ ہو۔
گگرانی کا کہنا ہے کہ پی اے ڈی یو کو بیک اپ کے طور پر رکھا گیا ہے اور غالب امکان ہے کہ اس کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ ان کے مطابق، آلہ صرف ہنگامی صورت میں استعمال ہوگا اور اس سے ووٹنگ کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
دوسری طرف، پولنگ کے دن امیدواروں کو ووٹروں سے ملاقات کی اجازت دینے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ راج ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کی مدت ختم ہونے کے باوجود گھر گھر پہنچ کی اجازت دینا قواعد میں غیر معمولی نرمی ہے، جو پہلے کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں دیکھنے میں نہیں آئی۔
ادھر بی جے پی کے رہنما اور ریاستی وزیر چندر شیکھر باونکولے نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعتراضات شکست کے اندیشے کا نتیجہ ہیں، جبکہ انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف طریقے سے جاری ہے۔
ووٹنگ کے جاری رہنے کے ساتھ ہی یہ تنازعہ انتخابی عمل کے ایک اہم پہلو کے طور پر ابھرا ہے، جس پر نتائج کے بعد بھی سیاسی بحث جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔