’یہودیوں نے بڑی غلطی کر دی‘، خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے ’ایکس‘ ہینڈل سے جاری ہوئی پہلی پوسٹ

خامنہ ای کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے ان کی موت کے بعد پہلی بار کوئی پوسٹ جاری کی گئی ہے۔ 86 سالہ خامنہ ای کی موت 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ کی گئی فوجی کارروائی میں ہوئی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/khamenei_ir">@khamenei_ir</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے ’ایکس‘ ہینڈل سے پہلی پوسٹ جاری کی گئی ہے۔ اس پوسٹ میں اسرائیل کو متنبہ کرتے ہوئے ’اے آئی‘ (مصنوعی ذہانت) سے تیار ایک تصویر شیئر کی گئی ہے، جس میں میزائل بنانے سے لے کر ہدف پر حملہ کرنے تک کا عمل دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر معنی خیز ہے، جو اسرائیل سے سخت بدلہ لینے کی طرف واضح اشارہ کر رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 86 سالہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ کی گئی فوجی کارروائی میں ہوئی تھی۔ ان کے انتقال سے متعلق تصدیق یکم مارچ کو کی گئی تھی، اور تب سے جنگ کے حالات بد سے بدتر ہی ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ علی خامنہ ای کے ’ایکس‘ ہینڈل سے کی گئی تازہ پوسٹ کے بعد حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس پوسٹ میں اے آئی سے تیار تصویر میں میزائل بنانے سے لے کر اس کے استعمال تک کے الگ الگ مراحل کو دکھایا گیا ہے۔ تصویر میں سائنسدانوں کو میزائل تیار کرتے ہوئے بھی پیش کیا گیا ہے۔ تصویر میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ فوجی اہلکار میزائل لانچ کر رہے ہیں، اور آخر میں یہ میزائل ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔


اس سوشل میڈیا پوسٹ میں اسرائیل کو براہ راست طور پر متنبہ کرنے والا جملہ بھی لکھا گیا ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’یہودی حکومت نے بڑی غلطی کر دی ہے، اور اس کے نتائج اسے مایوس کر دیں گے۔‘‘ اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’اللہ کے کرم سے اس (حملہ) کے نتائج سامنے آئیں گے۔‘‘ یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقہ میں کشیدگی پہلے سے ہی بڑھی ہوئی ہے۔ اس پوسٹ کو ایران کی طرف سے اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔

اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خلیجی ممالک کے ساتھیوں کی بڑھتی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خلیجی ممالک نے شکایت کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں انھیں اپنے ممالک پر ہوئے ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے تیاری کا وقت نہیں ملا۔ 2 خلیجی ممالک کے افسران نے کہا کہ انھیں ٹرمپ نے امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ کیے گئے آپریشن کی جانکاری پہلے سے نہیں دی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ خلیجی ممالک نے پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ ایران پر حملہ پورے خطہ کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے، لیکن اس تنبیہ کو نظر انداز کیا گیا۔


ایک افسر نے کہا کہ خطہ میں یہ سوچ بن رہی ہے کہ امریکی فوج نے خاص طور سے اسرائیل اور اپنے فوجیوں کی حفاظت پر دھیان دیا، جبکہ خلیجی ممالک کو اپنا دفاع خود کرنا پڑا۔ ان کے مطابق انٹرسپٹر میزائلوں کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے، جو فکر انگیز ہے۔ سی این این نے سابق سعودی خفیہ چیف پرنس ترکی الفیصل کے حوالہ سے کہا کہ یہ بنیادی طور پر بنجامن نیتن یاہو کی جنگ ہے، جنھوں نے ٹرمپ کو اس کی حمایت کرنے کے لیے راضی کیا۔ حالانکہ اس مسئلہ پر سعودی عرب، کویت اور بحرین کی حکومتوں نے بولنے سے انکار کیا ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی ایک ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے سبب ایران کے میزائل حملے 90 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔ حالانکہ امریکی ڈیفنس افسران نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ’شاہد‘ ڈرون کی لہروں کو روکنا مشکل ہو رہا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے خلیجی ممالک پر تقریباً 380 میزائلیں اور 1480 ڈرون داغے ہیں، جن سے کم از کم 13 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔


جاری جنگ کو امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات بھی شدت عطا کر رہے ہیں۔ انھوں نے تازہ بیان یہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کا سمجھوتہ تبھی ہوگا، جب وہ بلاشرط خود سپردگی کرے گا۔ انھوں نے یہ بیان ’ٹروتھ سوشل‘ پر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران جب خود سپردگی کرے گا تو اس کے بعد ایک ’بہترین اور قابل قبول قیادت‘ کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس کے بعد امریکہ اور اس کے ساتھی ممالک مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لانے کے لیے کام کریں گے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس عمل کے عبد ایران کی معیشت پہلے سے زیادہ بڑی، بہتر اور مضبوط ہوگی۔ انھوں نے اپنے بیان کے آخر میں ایک نعرہ بھی دیا، ’میک ایران گریٹ اگین۔‘‘

ٹرمپ اس طرح کے بیانات لگاتار دے رہے ہیں، لیکن ایران اپنی پوری طاقت کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک تازہ بیان بھی ظاہر کر رہا ہے کہ ایران پیچھے ہٹنے کا ارادہ بالکل بھی نہیں رکھتا۔ جمعہ کے روز انھوں نے کہا کہ ’’کچھ ممالک نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ چل رہی جنگ کے درمیان بیچ بچاؤ کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ہم بھی امن کو پسند کرتے ہیں، لیکن اپنی عزت اور آزادی کے ساتھ۔ ہم گزشتہ ہفتہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے محروم ہو گئے۔ شاید کچھ لوگوں نے ہمیں کم سمجھ لیا ہے۔‘‘


یہ بیان صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے۔ انھوں نے اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’کچھ ممالک نے بیچ بچاؤ کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ صاف صاف کہہ دوں کہ ہم اس علاقہ میں ہمیشہ امن بنائے رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، پھر بھی ہمیں اپنے ملک کی عزت اور آزادی کی حفاظت کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہے۔ بیچ بچاؤ ان لوگوں پر ہونا چاہیے، جنھوں نے ایرانی لوگوں کو کم سمجھا اور اس جھگڑے کو بھڑکایا۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔