بی ایم سی انتخابات: ووٹروں کی انگلیوں سے مٹ رہی مارکر کی سیاہی، راج ٹھاکرے کا دھاندلی کا الزام
بی ایم سی انتخابات کے دوران ووٹروں نے انگلیوں پر لگے مارکر کی سیاہی کے آسانی سے مٹنے کا دعویٰ کیا۔ راج ٹھاکرے نے دھاندلی کا الزام لگایا، جبکہ حکومت نے الزامات مسترد کرتے ہوئے جانچ کے احکامات دیے

ممبئی میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، تاہم اس دوران ووٹنگ کے طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ متعدد ووٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹ ڈالنے کے بعد ان کی انگلیوں پر لگایا گیا مارکر کا نشان آسانی سے مٹ جا رہا ہے، جس سے انتخابی شفافیت پر خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس معاملے کو لے کر مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے ریاستی حکومت اور انتخابی نظام پر شدید تنقید کی ہے۔
ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا کہ حکومت کسی بھی قیمت پر بی ایم سی انتخابات جیتنے کے درپے ہے اور اسی مقصد کے تحت وہ ایسے طریقے اپنا رہی ہے جن سے انتخابی عمل کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ووٹروں کی انگلیوں پر ناقابلِ مٹنے والی سیاہی لگائی جاتی تھی، مگر اب مارکر کا استعمال کیا جا رہا ہے جو سینیٹائزر سے بآسانی صاف ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے طریقوں سے جیت حاصل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
راج ٹھاکرے نے حکمراں جماعت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ترقی کے دعوے کرنے والے لوگ ووٹ کی صداقت کو مٹا کر دوبارہ ووٹنگ کا راستہ ہموار کریں تو یہ ترقی نہیں بلکہ جمہوریت کی کمزوری کی علامت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اور انتخابی ادارے مل کر ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے اپوزیشن کو حاشیے پر دھکیلا جا سکے۔
انہوں نے ووٹنگ کے عمل میں شفافیت کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ ریاستی انتظامیہ عملاً حکمراں فریق کے دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپلیکیٹ ووٹروں اور ووٹنگ مشینوں سے متعلق سوالات اٹھانے کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب دادر کے چھابیلداس اسکول میں ایک مبینہ ڈپلیکیٹ ووٹر پکڑے جانے کی خبر سامنے آئی۔ اس کے بعد راج ٹھاکرے نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پولنگ بوتھوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ کسی بھی طرح کی بدعنوانی کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ فڈنویس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق تمام فیصلے انتخابی ادارے کرتے ہیں اور مارکر کا استعمال پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں پر مسلسل شکوک و شبہات کا اظہار مناسب نہیں۔ اسی دوران بی ایم سی کمشنر بھوشن گگرانی نے شکایات کے بعد جانچ کا حکم دیا اور انتظامیہ نے ہدایت دی کہ ووٹروں کی انگلیوں پر لگائی جانے والی سیاہی اس طرح لگائی جائے کہ وہ آسانی سے نہ مٹے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔