
کانگریس لیڈر پون کھیڑا / تصویر آئی این سی
انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں حاضر ہو کر طلبا پر دہلی پولیس کی بربریت سے متعلق جواب دینے کا مستقل مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن اب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوا ہے۔ اس درمیان پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے کہا کہ ’’ملک کے دل میں جو سوالات ہیں، وہ اپوزیشن کے ذریعہ سے ایوان میں پوچھے جا رہے ہیں، لیکن برسراقتدار طبقہ کے لوگ جواب دینے سے بھاگ رہے ہیں۔‘‘
پون کھیڑا نے میڈیا اہلکاروں سے رام مندر چندہ چوری معاملہ پر حکومت کی خاموشی کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی نے رام مندر ٹرسٹ کی تشکیل کر اس میں اپنے پسندیدہ لوگوں کو بھرا۔ ایسے میں اگر ’چندہ چوری‘ ہوتی ہے تو وزیر اعظم سے سوال پوچھے جائیں گے۔‘‘ مودی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’مودی حکومت اپنے ٹول کِٹ سے ملک کی توجہ بھٹکانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن یہ سمجھ لیں کہ ان کے ٹول کٹ اور حکومت دونوں کی ایکسپائری ڈیٹ ختم ہو گئی ہے۔‘‘
تعلیمی نظام کو درست کیے جانے سے متعلق طلبا کی تحریک پر بھی پون کھیڑا نے اپنی رائے سامنے رکھی۔ خاص طور سے رانچی میں ہو رہے مظاہرے پر انھوں نے کہا کہ ’’راہل گاندھی لگاتار طلبا سے بات کر رہے ہیں، ہمارا وفد بھی طلبا سے ملاقات کر رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’بھارتیہ جنتا یوا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے غنڈوں کو آس پاس کی ریاستوں سے جھارکھنڈ میں داخل کرایا گیا، تاکہ ایک پُرامن تحریک کو پُرتشدد تحریک میں بدل سکے۔‘‘
پون کھیڑا نے دہلی میں طلبا کے ساتھ حکومت کے ہوئے سلوک اور جھارکھنڈ میں طلبا کے ساتھ ہو رہے سلوک کا موازنہ بھی کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جھارکھنڈ حکومت میں وزیر دیپکا تو طلبا و نوجوانوں سے ملاقات کر رہی ہیں، لیکن کیا مودی حکومت کا ایک بھی وزیر جنتر منتر طلبا سے ملاقات کرنے کے لیے گیا تھا؟‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جنتر منتر چھوڑیے، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ایوان میں نہیں آنا چاہتے، کیونکہ ان کے سیاہ کارنامے سب کے سامنے آ چکے ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔