کیا اب ہفتے کے روز بھی بند رہیں گے بینک؟ وائرل نوٹیفکیشن پر پی آئی بی کی وضاحت

بینکوں میں ہفتے کی چھٹی سے متعلق ایک نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہا ہے۔ جس کے بعد یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا واقعی بینک ملازمین کے لیے 5 روزہ ہفتہ نافذ ہونے جا رہا ہے؟

اسٹیٹ بینک، تصویر آئی اے این ایس
i

نئی دہلی: کیا اب بینک ملازمین کو ہر ہفتے ہفتہ اور اتوار کی چھٹی ملنے والی ہے؟ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک نوٹیفکیشن نے اس سوال کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے تمام بینکوں، بشمول اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی)، کے لیے ہفتے کے روز بھی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔

لیکن اس دعوے کی حقیقت کیا ہے؟ پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی فیکٹ چیک یونٹ نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دستاویز کو فرضی قرار دیا ہے۔

پی آئی بی فیکٹ چیک نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزارت خزانہ کے محکمہ مالیاتی خدمات کے نام سے ایک گزٹ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے تمام سرکاری شعبے کے بینکوں کے لیے ہر ہفتے ہفتہ کو عوامی تعطیل قرار دے دی ہے۔

پی آئی بی نے واضح کیا کہ یہ دستاویز فرضی ہے اور وزارت خزانہ کی جانب سے ہر ہفتے ہفتہ کو سرکاری شعبے کے بینکوں کی چھٹی سے متعلق کوئی ایسا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔ فیکٹ چیک یونٹ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مرکزی حکومت سے متعلق ایسی مشتبہ اور گمراہ کن معلومات سے محتاط رہیں۔


یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بینک ملازمین کی جانب سے پانچ روزہ بینکاری ہفتے کا مطالبہ پہلے سے زیرِ غور ہے۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) کا مطالبہ ہے کہ بینک ملازمین کو ہفتے میں پانچ دن کام اور ہفتہ و اتوار کی چھٹی دی جائے۔

اسی مطالبے سمیت دیگر امور پر یو ایف بی یو نے 28 سے 30 ستمبر تک ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انڈین بینکس ایسوسی ایشن (آئی بی اے) کے ساتھ بات چیت کے بعد ہڑتال ملتوی کر دی گئی۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بینک ملازمین کی جانب سے پانچ روزہ بینکاری ہفتے کا مطالبہ پہلے سے زیرِ غور ہے۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) کا مطالبہ ہے کہ بینک ملازمین کو ہفتے میں پانچ دن کام اور ہفتہ و اتوار کی چھٹی دی جائے۔

اسی مطالبے سمیت دیگر امور پر یو ایف بی یو نے 28 سے 30 ستمبر تک ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انڈین بینکس ایسوسی ایشن (آئی بی اے) کے ساتھ بات چیت کے بعد ہڑتال ملتوی کر دی گئی۔


آئی بی اے اور یو ایف بی یو کے درمیان مفاہمت کے تحت پانچ روزہ بینکاری ہفتے کے مطالبے پر غور کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ کمیٹی معاملے کا جائزہ لینے، ممکنہ متبادل تلاش کرنے اور صارفین سمیت متعلقہ فریقوں سے مشاورت کرے گی۔

یعنی بینک ملازمین کے لیے پانچ روزہ ہفتے کا مطالبہ اب بھی زیرِ غور ہے، لیکن سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ہفتے کے روز بینکوں کو بند کرنے کا کوئی سرکاری فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔