ایف سی آر اے بل: کانگریس نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی کارکردگی پر اٹھائے سوال، لوک سبھا اسپیکر کو لکھا خط
وینوگوپال نے لوک سبھا اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ کمیٹی سنجیدہ مشورہ والا عمل اختیار کرے، جس میں فلاحی اداروں اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے تحریری تجاویز اور زبانی شہادتیں بھی شامل ہوں۔

کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر ’فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) امینڈمنٹ بل، 2026‘ کی جانچ کر رہی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خط میں انہوں نے اس سلسلے میں وسیع بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ میں وینوگوپال نے ایف سی آر اے بل، 2026 پر جے پی سی کے کام کاج کے سلسلے میں لوک سبھا اسپیکر کو لکھے گئے خط کی اطلاع بھی دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی حساس بل ہے، جس کے اقلیتوں اور سول سوسائٹی گروپوں کے آئینی حقوق پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔
کے سی وینوگوپال کا کہنا ہے کہ جے پی سی کا مقصد تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے رائے لینا اور دوبارہ پیش کیے جانے سے پہلے ڈرافٹ بل کی باریک بینی سے جانچ کرنا تھا۔ وینوگوپال نے سوال اٹھایا کہ کیا وسیع پیمانے پر رائے اور جانچ کا عمل اپنایا گیا ہے؟ ہمارا ماننا ہے کہ جے پی سی سے نکلنے والا کوئی بھی بل غلطیوں سے پاک ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ یہ ایک سنجیدہ مشورہ کے عمل سے گزرا ہے۔ ایسا یقینی بنائے بغیر جے پی سی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ پارلیمنٹ کے ساتھ دھوکہ ہے۔
اپنے خط میں وینوگوپال نے لوک سبھا اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ کمیٹی ایک سنجیدہ مشورہ والا عمل اختیار کرے، جس میں این جی او، فلاحی اداروں، مذہبی اداروں، رضاکارانہ تنظیموں، قانونی ماہرین اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے تحریری تجاویز اور زبانی شہادتیں بھی شامل ہوں۔ وینوگوپال نے اسپیکر سے بل کی ہر شق پر تفصیلی بحث کے لیے مناسب وقت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ایوان میں غور کیے جانے سے پہلے اس قانون کی باریک بینی سے جانچ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 12 اگست کو ایف سی آر اے بل 31 اراکین پر مشتمل جے پی سی کو بھیجا گیا تھا۔ کمیٹی کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ کانگریس لیڈر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب جے پی سی کے کئی اراکین بل کی جانچ کرنے اور عوام کی رائے لینے کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن اراکین نے کمیٹی کی 12 اکتوبر کی میٹنگ کو کم از کم 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے اور اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز لینے کی مدت کو بھی چار ہفتوں تک بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
