آج پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا آخری دن، حد بندی اور ایف سی آر اے ترمیمی بل اب بھی زیر التوا
مانسون اجلاس کے دوران طلبا تحریک اور ان پر پولیس کارروائی کا معاملہ اپوزیشن نے زور و شور سے اٹھایا۔ رام مندر میں چندہ چوری کے لیے بھی اپوزیشن کی طرف سے لگاتار حکومت سے جواب طلب کیا گیا۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہوا تھا اور طے شدہ پروگرام کے مطابق جمعرات (13 اگست 2026) کو ختم ہو رہا ہے۔ لوک سبھا کے سرکاری کیلنڈر میں اس اجلاس کے لیے مجموعی طور پر 19 نشستیں رکھی گئی تھیں۔ اس پورے اجلاس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان کئی معاملوں پر اختلافات دیکھنے کو ملے۔ بیشتر مواقع پر ایوان کی کارروائی بری طرح متاثر ہوئی۔ اپوزیشن نے مختلف معاملوں میں حکومت سے جواب مانگا، لیکن انھیں جواب نہیں ملا۔ حکومت نے اپوزیشن سے ایوان میں بحث کرنے کی اپیل ضرور کی، لیکن اختلافات ہنوز قائم رہے۔
اپوزیشن پارٹیاں مسلسل وزیر داخلہ امت شاہ سے طلبا کی تحریک کے معاملے پر جواب مانگ رہی ہیں۔ 12 اگست کو امت شاہ نے کہا کہ وہ جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اور ممکن ہے کہ وہ آج ایوان میں جواب دیں۔ دراصل مانسون اجلاس کے دوران طلبا سے متعلق مظاہروں اور پولیس کارروائی کا معاملہ اپوزیشن نے زور شور سے اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ رام مندر میں چندہ چوری کو لے کر بھی اپوزیشن کی جانب سے مسلسل حکومت سے جواب کا مطالبہ کیا گیا۔ اس بارے میں حکمراں جماعت نے پہلے تو خاموشی اختیار کی، لیکن اپوزیشن کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے چند روز قبل کہا کہ حکومت اہم معاملات پر بحث کے لیے تیار ہے اور اپوزیشن کو ایوان کی کارروائی چلنے دینی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ مانسون اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت نے تمام پارٹیوں سے ایوان کو ہموار طریقے سے چلانے میں مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کی جانب سے منعقدہ کل جماعتی اجلاس میں بھی حکومت نے کہا تھا کہ وہ قواعد کے تحت اٹھائے جانے والے اہم معاملات پر بحث کے لیے تیار ہے۔ لیکن لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی ایوانوں میں اپوزیشن کے ذریعہ اٹھائے جانے والے معاملوں پر حکومت نے کچھ بھی جواب نہیں دیا، اور ہنگامے کے درمیان کچھ اہم بل پاس بھی کرا لیے گئے۔ پارلیمنٹ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس اجلاس کے دوران کئی بلوں پر کام آگے بڑھا۔ ان میں اینٹی پیپر لیک بل، سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد سے متعلق بل، کیرالہ کا نام تبدیل کرنے سے متعلق بل اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے متعلق ترمیمی بل جیسے تجاویز شامل ہیں۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ آج پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا آخری دن ہے اور کچھ اہم بل اب بھی پارلیمنٹ کے ریکارڈ میں زیر التوا دکھائی دے رہے ہیں۔ ان میں حد بندی بل اور ایف سی آر اے ترمیمی بل شامل ہیں۔ ’حد بندی بل، 2026‘ لوک سبھا کے ریکارڈ میں زیر التوا دکھایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ’فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ترمیمی بل، 2026‘ (ایف سی آر اے بل) بھی زیر التوا بلوں میں شامل ہے۔ یہ بل وزارت داخلہ سے متعلق ہے اور لوک سبھا کے سرکاری ریکارڈ میں زیر التوا ہے۔
لوک سبھا کے سرکاری پروگرام کے مطابق 13 اگست کو اس اجلاس کی 19ویں اور آخری نشست رکھی گئی ہے۔ اب سبھی کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آخری دن ایوان میں کتنا کام ہو پاتا ہے اور کن معاملات پر بحث ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں سیاسی بحث کے ساتھ قانون سازی کے کئی کام بھی ہوئے، لیکن اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کے سبب ایوان کی کارروائی کئی بار متاثر ہوئی۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد اس کی مکمل تصویر سرکاری کام کاج کی رپورٹ سے مزید واضح ہوگی۔
