قومی خبریں

’گاندھی مخالف پارٹی ہے بی جے پی‘، منریگا کی جگہ ’وی بی-جی رام جی‘ بل لانے پر رام گوپال یادو کا ردعمل

رام گوپال یادو نے کہا کہ ’’اس بل میں نیا کیا لا رہے ہیں؟ صرف نام ہی تو بدل رہے ہیں۔ باپو کے نام سے بی جے پی کو اس قدر نفرت ہے تو ہم لوگ اس کی حمایت نہیں کر سکتے۔‘‘

رام گوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس
رام گوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس 

مرکزی حکومت آج لوک سبھا میں ’وکست بھارت-روزگار اور اجیویکا گارنٹی مشن (گرامین) بل 2025‘ پیش کرے گی۔ اس پر سماجوادی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن رام گوپال یادو کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کو باپو کے نام سے نفرت ہے، سماجوادی پارٹی کبھی اس کی حمایت نہیں کرے گی۔‘‘

Published: undefined

پارلیمنٹ کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے رام گوپال یادو نے کہا کہ ’’میری رائے میں اس بل کو لانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس بل کے لانے کے بعد بی جے پی پر جو یہ الزام عائد ہوتے رہے ہیں کہ یہ مہاتما گاندھی کے شروع سے ہی مخالف رہے ہیں، ان کی تصدیق ہو رہی ہے۔‘‘ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اس بل میں نیا کیا لا رہے ہیں؟ صرف نام ہی تو بدل رہے ہیں۔ باپو کے نام سے بی جے پی کو اس قدر نفرت ہے تو ہم لوگ اس کی حمایت نہیں کر سکتے، صرف اکثریت کی بنیاد پر بنا لیں۔ لیکن اس بل کو لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

Published: undefined

رام گوپال یادو نے اس دوران ووٹ چوری کے متعلق جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ اور این سی پی (ایس پی) کی لیڈر سپریہ سولے کے بیان پر بھی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان لوگوں نے کیا بیان دیا ہے مجھے نہیں معلوم، لیکن ہر کسی کی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی جگہ نیا قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کا نام ’وکست بھارت-روزگار اور اجیویکا گارنٹی مشن (گرامین) بل 2025‘ ہے۔ اس کے تحت دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو روزگار اور کمائی کے نئے مواقع مل سکیں گے۔ واضح رہے کہ کانگریس اور سماجوادی پارٹی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں منریگا کا نام بدلنے پر مرکزی حکومت پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ اس مسئلہ پر آج پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان زوردار بحث دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined