
پپو یادو کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
بہار کی پورنیہ لوک سبھا سیٹ سے آزاد رکن پارلیمنٹ اس وقت پٹنہ کے بیور جیل میں بند ہے۔ جمعرات کی دیر رات پولیس نے انہیں 35 سال پرانے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں ضمانت کے لیے پیر (9 فروری) کو سماعت ہونے والی تھی۔ تاہم یہ سماعت آخری وقت پر ملتوی کر دی گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پپو یادو کو ابھی جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ پپو یادو کو اتوار کی دوپہر پٹنہ کے بیور جیل بھیجا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ گرفتاری کے وقت پپو یادو نے کہا تھا کہ انہیں سانس لینے میں پریشانی ہو رہی ہے، اس کے بعد ہی انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ حالانکہ اس دوران ان کے حامیوں نے جم کر ہنگامہ بھی کیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ پپو یادو کو جمعہ کی دیر رات گرفتار کیا گیا تھا۔ ہفتہ کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد انہیں بیور جیل لے جایا گیا۔ بیور جیل میں بائیومیٹرک اور فنگر پرنٹ لینے کے بعد واپس پی ایم سی ایچ بھیجا گیا تھا۔
Published: undefined
پورنیہ سے رکن پارلیمنٹ پپو یادو کو 35 سال پرانے معاملے میں جیل بھیجا گیا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے بتایا گیا کہ اس معاملے میں انہیں پیش ہونے کے لیے کہا گیا تھا، اس کے بعد بھی وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے پپو یادو سمیت کیس کے تمام نامزد ملزمان کے خلاف وارنٹ جاری کیا تھا۔ پولیس نے عدالت کے حکم کے بعد جمعہ کو پپو یادو کو گرفتار کر لیا تھا۔
Published: undefined
پپو یادو کی گرفتاری کے بعد راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی بھی ان کی حمایت میں آئے تھے۔ پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ پپو یادو کی گرفتاری غلط ہے۔ کانگریس لیڈران کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ جب کوئی عوامی نمائندہ خواتین کے خلاف جرائم اور انتظامی لاپرواہی کے متعلق سوال اٹھاتا ہے تو اسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined