بہار میں لاقانونیت اور بد نظمی عروج پر، وزیر اعلیٰ کی خاموشی تشویشناک: تیجسوی یادو
دربھنگہ میں عصمت دری اور قتل کے حوالے سے تیجسوی یادو نے ریاستی حکومت پر خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا اور وزیراعلیٰ کی خاموشی کو تشویشناک قرار دیا

بہار کے دربھنگہ میں 6 سال کی معصوم بچی کی عصمت دری اور پھر بہیمانہ قتل نے سبھی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس واردات پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اس دوران بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے اس دل دہلا دینے والی واردات پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔
دربھنگہ میں معصوم بچی کے ساتھ ہونے والے گھناؤنے جرم کے خلاف بہار میں غم و غصہ کے دوران کئی مقامات پر احتجاج ہو رہاہے۔ اپوزیشن مسلسل حکومت پر سوال اٹھا رہی ہے۔ ان سب کے درمیان تیجسوی یادو نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری کارروائی نہیں کی تو احتجاج میں شدت آئے گی۔
تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ بہار میں متاثرین، غریبوں اور خواتین کی بات سننے والا کوئی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘ پر کہا کہ پولیس کی مسلسل ناکامی، سزا کی غیر معمولی شرح اور جرائم پر وزیر اعلیٰ کی خاموشی کی وجہ سےعوام سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہے۔
تیجسوی یادو نے لکھا کہ’’ریاست میں ہر طرف افراتفری اور بدنظمی کا ماحول ہے۔ لاء اینڈ آرڈر پوری طرح سے تباہ ہو چکا ہے۔ جرائم پیشہ اور حکمراں پارٹی کے گٹھ جوڑ سے عوام پریشانی کا شکار ہے‘‘۔آر جے ڈی لیڈر نے الزام لگایا کہ پچھلے کچھ مہینوں میں خواتین اور بچیوں کے خلاف عصمت دری، قتل اور تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
آرجے ڈی لیڈر نے آخر میں لکھا کہ’’ اقتدار کے تحفظ میں عصمت دری کرنے والوں، قاتلوں اور جرائم پیشہ کے حوصلے بلند ہیں، خود حکومت کے وزراء کھلے عام اقتدار کی سرپستی میں جرم کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ریاست میں لاقانونیت اور بد نظمی کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور وزیر اعلیٰ کی خاموشی خطرناک اور مجرمانہ ہے‘‘۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔