یوپی اسمبلی میں اقتصادی سروے پیش، اپوزیشن کے ہنگامے کے دوران اجلاس کل تک کے لیے ملتوی

اتر پردیش اسمبلی کا بجٹ اجلاس گورنر کے خطاب سے شروع ہوگیا۔ اجلاس سے پہلے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے حکومت کے ایجنڈے کا خاکہ پیش کیا جبکہ اپوزیشن بھی مختلف مسائل پرحکومت کو گھیرنے کے لیے تیار ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو ویڈیو گریم</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اتر پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آغاز پیر کو گورنر آنندی بین پٹیل کی تقریر کے ساتھ ہوا۔ اس دوران اپوزیشن ارکان اسمبلی کا ہنگامہ اور نعرے بازی بھی جاری رہی۔  گورنر نے کہا کہ ریاست میں 6 کروڑ لوگوں کو غربت سے نجات دلائی گئی ہے۔ ریاست میں امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے حکومت زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر 2019 سے اب تک 129 جرائم پیشہ کو مختلف الزامات میں عمر قید یا دیگر قوانین کے تحت قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔وہیں دو کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

اسمبلی میں ایک طرف گورنر ریاستی حکومت کی تعریف کررہی تھیں وہیں دوسری اپوزیشن کئی معاملوں میں حکومت کی ناکامی کا الزام لگا کر’ گوبیک،گوبیک‘ نعرے لگارہا تھا۔ اس دوران اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اپنا اقتصادی سروے پیش کیا حالانکہ سماج وادی پارٹی کی شدید مخالفت کے بعد اسمبلی کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔


پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ممبران اسمبلی نے ایوان میں ہنگامہ کیا۔ انہوں نے ’واپس جاؤ، واپس جاؤ‘ کے نعرے لگائے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اسمبلی اجلاس کے موقع پرایس پی ایم ایل اے زاہد بیگ ’ایس آئی آر‘ اور فارم 7 کا مسئلہ اٹھانے اسمبلی پہنچے۔ وہ نعرے لگاتے ہوئے پلے کارڈ اٹھائے اسمبلی میں داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ اپوزیشن پارٹی کے کئی دیگر ممبران اسمبلی بھی نعرے لگارہے تھے۔ اپوزیشن ایس آئی آر، کوڈین کف سیرپ کی اسمگلنگ اور امن و امان جیسے مسائل پر حکومت کو گھیرنے کے لیے تیار ہے۔

سماج وادی پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اجلاس شروع ہونے سے پہلے چودھری چرن سنگھ کے مجسمہ کے قریب ایک بڑا مظاہرہ کیا جس میں منی کارنیکا گھاٹ اور ایس آئی آر سمیت کئی مسائل پراپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایس پی کے سینئر لیڈر راجندر چودھری نے کہا کہ حکومت کا بجٹ محض دھوکہ ہے۔


اس سلسلے میں ہنگامے کے اندیشے کے پیش نظر اسمبلی احاطے میں اترپردیش پولیس کے ساتھ ساتھ آر آر ایف کے دستے تعینات کئے گئے ہیں۔ پورے علاقے کو بیریکیڈ کر کے چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ اتوار کے روز ہوئی آل پارٹی میٹنگ میں تعاون کی یقین دہانیوں کے باوجود پہلے دن حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان تلخ نوک جھونک دیکھنے کو ملی۔

اجلاس سے پہلے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج گورنر کی تقریر کے بعد اتر پردیش کا اقتصادی سروے بھی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ریاستی حکومت اپنی اقتصادی کامیابیوں کو پیش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ بتانا چاہیں گے کہ ہم نے اتر پردیش کو پسماندگی سے نکالا ہے اور اسے ہندوستانی معیشت میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر قائم کیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔