تمل ناڈو میں برڈ فلو کی دستک، نمکّل کے پولٹری فارم میں ہائی الرٹ

بائیو سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں، گاڑیوں کو ڈِس انفیکٹ کیا جا رہا ہے اور تمام کام ویٹرنری کالج و محکمہ حیوانات کے پروٹوکول کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>پولٹری فارم، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

تمل ناڈو حکومت کے ذریعہ ریاست کے کچھ حصوں میں ایویئن انفلوئنزا کے معاملے سامنے آنے اور غیر معموملی طور پر پرندوں کی ہلاکتوں کی رپورٹ کے بعد ریاست گیر ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ اس کے بعد نمکل ضلع کے پولٹری فارموں نے بائیوسیکورٹی اور صاف صفائی کے اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے۔ حالانکہ نمکل میں اب تک کوئی آؤٹ بریک نہیں پایا گیا ہے، لیکن کسان اور افسران ضلع کے پولٹری سیکٹر کو محفوظ رکھنے کے لیے پہلے سے ہی قدم اٹھا رہے ہیں۔ یہ سیکٹر ہندوستان میں انڈوں کی پیداوار اور برآمدات کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔

افسران کا کہنا ہے کہ نگرانی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ یہ بہت زیادہ پھیلنے والا وائرس اس بہتر انداز میں منظم فارم ایکوسسٹم میں کسی بھی طرح سے داخل نہ ہو پائے۔ نمکل میں کام کے بڑے پیمانے اور لوگوں، گاڑیوں اور سامان کی مسلسل نقل و حرکت کو دیکھتے ہوئے چھوٹی سی بھی لاپرواہی خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ نتیجتاً خطرے کو کم کرنے کے لیے سخت قدم اٹھائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں صفائی مہم تیز کر دی گئی ہے اور فارم میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نگرانی سسٹم کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ فارم کے اندر صرف ضروری لوگوں کو ہی جانے کی اجازت ہے اور نئے آنے والوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ فارم میں داخل ہونے والی گاڑیوں کو اچھی طرح سے ڈِس انفیکٹ (جراثیم سے پاک) کیا جا رہا ہے اور تمام کام ویٹرنری کالج اور محکمہ حیوانات کے ذریعہ بتائے گئے پروٹوکول کے تحت کیے جا رہے ہیں۔


آل انڈیا پولٹری پروڈکٹ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن  کے سکریٹری ولسن پرمیشورن نے کہا کہ نمکل کی پولٹری بیلٹ پورے سال بائیوسیکورٹی قوانین کی پابندی کرتی ہے، لیکن جب بھی الرٹ جاری ہوتا ہے تو اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے وقت میں کسان، مالک اور افسران مل کر کام کرتے ہیں۔ ہم صاف صفائی میں اضافہ کرتے ہیں اور داخلے کو سختی سے کنٹرول کرتے ہیں تاکہ یہ بیماری ہمارے فارم تک نہ پہنچے۔

پولٹری مالکان نے تصدیق کی ہے کہ جراثیم کشی کی فریکوئنسی دوگنی کر دی گئی ہے۔ ہر 15 روز کے بجائے اب ہر ہفتے میں ایک بار صفائی کی جاتی ہے۔ چونکہ نمکل سے انڈے باقاعدگی سے مقامی اور بین الاقوامی بازاروں میں برآمد کیے جاتے ہیں، اس لیے فارم کو حفاظتی اقدامات کی کئی تہوں (لیئرس) کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں حفظان صحت کے سخت معیارات اور مسلسل نگرانی شامل ہیں۔


تروپور کے ایک پولٹری کسان نے بتایا کہ کمرشل فارم کے اندر کنٹرول شدہ ماحول انفیکشن کے خطرے کو کافی کم کر دیتا ہے۔ کیونکہ ہمارے بائیوسیکورٹی سسٹم پورے سال کام کرتے ہیں۔ کھلے مقامات پر رہنے والے پرندوں کے مقابلے میں ہمارے فارم بہت کم غیر محفوظ ہیں۔ اس درمیان محکمہ حیوانات کے ویٹرنری ڈاکٹر معمول کا معائنہ کر رہے ہیں۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ معائنہ عام طور پر ہر 10 سے 15 روز میں ہوتا ہے، لیکن اگر تشویش کی کوئی علامت پائی جاتی ہے تو روزانہ دوروں کا انتظام کیا جائے گا۔ افسران نے اس بات پر زور دیا کہ ضلع محفوظ ہے، لیکن نمککل کی اہم پولٹری انڈسٹری کے تحفظ کے لیے چوکسی سب سے زیادہ ضروری ہے۔