قومی خبریں

خبردار! دہلی-میرٹھ ایکسپریس وے پر بائیک دوڑانا پڑے گا بھاری، کٹ سکتا ہے 20 ہزار روپے کا چالان

دہلی-میرٹھ ایکسپریس وے پر دو پہیہ اور تین پہیہ گاڑیاں حادثوں کا شکار ہو رہی تھیں، ہدایت جاری کرنے کے بعد بھی لوگ ماننے کو تیار نہیں ہوئے تو یہ سخت فیصلہ نافذ کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی-میرٹھ ایکسپریس واے کی فائل تصویر / Getty Images</p></div>

دہلی-میرٹھ ایکسپریس واے کی فائل تصویر / Getty Images

 
Hindustan Times

غازی آباد: میرٹھ دہلی ایکسپریس وے پر لگاتار پیش آ رہے حادثوں کے پیش نظر دو پہیہ اور تین پہیہ گاڑیاں لے جانے پر مکمل طور پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا پایا جاتا ہے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق ایکسپریس وے پر بائیک یا اسکوٹر لے جانے پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق غازی آباد میں ٹریفک پولیس نے دوپہیہ اور تین پہیہ گاڑیوں کو ایکسپریس وے پر لے جانے کی پاداش میں 4 دنوں کے اندر ڈیڑھ ہزار سے زیادہ گاڑیوں کے چالان کاٹ دیئے ہیں۔ جن لوگوں کا 20 ہزار روپے کا چالان کاٹا گیا، ان کا درد بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ بائیک سواروں کا کہنا ہے کہ ان کے چالان میں راحت دی جائے کیونکہ یہ بہت زیادہ ہے اور اتنی تو ان کی تنخواہ بھی نہیں ہے!

Published: undefined

اس معاملے پر غازی آباد ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ راستے میں کئی مقامات پر بورڈ اور نشانات لگائے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے کہ اس ایکسپریس وے پر یہ گاڑیاں ممنوع ہیں، اس کے باوجود لوگ میرٹھ ایکسپریس وے اور ایسٹرن پیریفرل ایکسپریس وے پر دو پہیہ گاڑیوں سے سفر کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انتظامیہ کی جانب سے یہ سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان ایکسپریس ویز پر موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ کافی حادثات پیش آ رہے تھے اور جرمانہ عائد کرنے کا یہ قدم ان کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔

Published: undefined

ٹریفک پولیس نے 4 روز میں ڈیڑھ ہزار کے قریب چالان کاٹے ہیں۔ اس کا اثر یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ لوگوں نے اس ایکسپریس وے کی طرف آنا بند کر دیا ہے اور اگر کوئی غلطی سے یہاں آ گیا تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined