
سوویندو ادھیکاری / آئی اے این ایس
مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے ریاست میں غیر قانونی طور پر رہ رہے غیر ملکی شہریوں کے خلاف بڑا انتظامی قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہریوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے خصوصی ’ہولڈنگ سنٹر‘ بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس فیصلے کو ریاست میں غیر قانونی دراندازی اور سیکورٹی سے جڑے مسائل پر حکومت کی بڑی کارروائی مانی جا رہی ہے۔
Published: undefined
حکومت کی جانب سے مغربی بنگال کے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو اس سلسلے میں تحریری ہدایات اور تفصیلی گائیڈ لائنز بھیجی گئی ہیں۔ افسران کو اپنے اپنے اضلاع میں ایسے ہولڈنگ سنٹر بنانے کے لیے مناسب جگہ کی نشاندہی کرنے اور آگے کا عمل جلد شروع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ انتظامیہ نے سرحدی اضلاع اور ان علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن چھپے ہوئے ہیں۔
Published: undefined
حکومت کے منصوبے کے مطابق ریاست کے مختلف حصوں سے پکڑے گئے غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا دراندازوں کو براہ راست جیل میں رکھنے کے بجائے ان خصوصی ہولڈنگ سنٹرز میں بھیجا جائے گا۔ یہاں ان کی شناخت، دستاویزات کی جانچ اور قانونی کارروائی پوری کی جائے گی۔ جب تک ان غیر ملکی شہریوں کی شناخت کی تصدیق اور انہیں قانونی طور پر ان کے اصل ملک واپس بھیجنے کا عمل پورا نہیں ہو جاتا، تب تک انہیں انہی ہولڈنگ سنٹرز میں رکھا جائے گا۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس سے غیر قانونی تارکین وطن پر نگرانی رکھنا آسان ہوگا اور ڈپورٹیشن کا عمل منظم طریقے سے پورا کیا جا سکے گا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ حالیہ اختتام پذیر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی نے ریاست سے غیر قانونی تارکین وطن کو باہر نکالنے کا معاملہ نمایاں طور پر اٹھایا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ جس طرح آسام میں دراندازی کے خلاف کارروائی کی گئی، اسی طرح بنگال میں بھی غیر قانونی دراندازی کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔ اب ریاست میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد پارٹی اپنے اسی انتخابی وعدے پر عمل درآمد کرنے کی سمت میں تیزی سے قدم بڑھا رہی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ اسی حکمت عملی کا حصہ مانا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined