’نہ جانچ ہوگی، نہ انصاف ملے گا‘، یو جی سی-نیٹ امتحان میں بے ضابطگی پر راہل گاندھی کا تلخ تبصرہ
راہل گاندھی نے کہا کہ نیٹ اور یو جی سی-نیٹ جیسے امتحانات میں بے ضابطگیوں کے باوجود مودی حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے، کیونکہ لاکھوں طلبا کی برسوں کی محنت اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے یو جی سی-نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے الزامات کو لے کر مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نیٹ امتحان کے بعد اب یو جی سی-نیٹ امتحان بھی سنگین بے ضابطگیوں کی زد میں آ گیا ہے، لیکن مرکزی حکومت لاکھوں طلبا کے مستقبل سے بے پروا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ منعقد ہونے والے یو جی سی-نیٹ امتحان سے متعلق سامنے آنے والے الزامات انتہائی حیران کر دینے والے ہیں۔ ان کے مطابق، نیٹ پیپر لیک معاملے کے چند ہی ہفتوں بعد اب اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یو جی سی-نیٹ امتحان سے عین قبل 100 صفحات پر مشتمل ایک پی ڈی ایف گردش میں آئی، جس میں سوالات کی وہ سیٹنگ موجود تھی جو صرف نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے پاس ہوتی ہے۔
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اس پی ڈی ایف میں موجود تقریباً 90 سوالات سماجیات کے اصل سوالنامہ سے مطابقت رکھتے تھے۔ راہل گاندھی کے مطابق یہی سوالنامہ بہار، اتر پردیش، ہریانہ، دہلی اور راجستھان میں مبینہ طور پر 2.25 لاکھ روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ کانگریس رہنما نے مزید الزام لگایا کہ اسی مبینہ نیٹورک نے آئندہ ہونے والے سی ایس آئی آر-نیٹ، ایچ ٹی ای ٹی اور اے ڈی اے سمیت دیگر امتحانات کے سوالنامے فراہم کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
راہل گاندھی نے مختلف امتحانات میں بے ضابطگی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’نیٹ اور یو جی سی-نیٹ جیسے امتحانات میں بار بار سامنے آنے والے گھوٹالوں کے باوجود مودی حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے، کیونکہ لاکھوں طلبا کی برسوں کی محنت اور راتوں کی جاگ کر کی گئی تیاری اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔‘‘ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پورا ملک جانتا ہے وزیر اعظم مودی اور وزیر تعلیم سے کسی بھی قسم کی جوابدہی یا مؤثر کارروائی کی امید رکھنا بے سود ہے۔ وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’نہ کوئی جانچ ہوگی اور نہ ہی طلبا کو انصاف ملے گا۔"
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے کہا کہ ’’تبدیلی کا واحد ذریعہ عوام، خصوصاً طلبا کی متحدہ آواز ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’ملک بھر کے طلبا کی اجتماعی گونج ہی ہندوستان میں تعلیمی انقلاب لا سکتی ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی ملک میں پیپر لیک اور تعلیم کو نقصان پہنچانے والی حکومتی پالیسیوں کے خلاف لگاتار آواز اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے ’چھاتروں کی گونج‘ عنوان سے باضابطہ ایک مہم شروع کر رکھی ہے، جس کے تحت وہ طلبا کے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
