کوٹا مہاریلی LIVE: موجودہ تعلیمی نظام نے نوجوانوں کے خوابوں کو محدود کر دیا، راہل گاندھی

کوٹا میں راہل گاندھی طلبہ سے براہ راست مکالمہ کر رہے ہیں۔ پیپر لیک، نیٹ تنازعہ، امتحانی شفافیت، ذہنی دباؤ اور تعلیمی اصلاحات جیسے اہم موضوعات پر نوجوانوں کی رائے اور مطالبات سامنے آ رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>کوٹا مہاریلی سے خطاب کرتے راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

موجودہ تعلیمی نظام نے نوجوانوں کے خوابوں کو محدود کر دیا، راہل گاندھی

کوٹا میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کا موجودہ تعلیمی نظام نوجوانوں کو چند مخصوص پیشوں تک محدود کر دیتا ہے، حالانکہ ہر طالب علم کے اندر الگ صلاحیت اور الگ خواب موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کنیا کماری سے کشمیر تک اپنے سفر کے دوران جب وہ نوجوانوں سے پوچھتے تھے کہ وہ مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں تو زیادہ تر جوابات چند روایتی شعبوں، جیسے ڈاکٹر، انجینئر، سرکاری افسر یا اسی نوعیت کے دیگر پیشوں تک محدود ہوتے تھے۔

راہل گاندھی کے مطابق جب وہ نوجوانوں سے انفرادی سطح پر تفصیلی گفتگو کرتے تو ان کے اصل خواب سامنے آتے۔ کوئی لڑکی خلاباز (ایسٹروناٹ) بننا چاہتی تھی، کوئی گلوکارہ بننے کی خواہش رکھتی تھی اور کوئی کسی دوسرے منفرد شعبے میں جانا چاہتا تھا۔ انہوں نے ایک تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مقام پر وزیر اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر موجود تھا۔ انہوں نے چند طالبات کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرائی اور پائلٹ سے درخواست کی کہ وہ انہیں کاک پٹ بھی دکھائیں۔ بعد میں جب انہی طالبات سے دوبارہ پوچھا گیا کہ وہ کیا بننا چاہتی ہیں تو سب نے جواب دیا کہ وہ پائلٹ بننا چاہتی ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اس تجربے سے انہیں احساس ہوا کہ نوجوانوں کے خواب اکثر مواقع کی کمی کے باعث محدود رہ جاتے ہیں۔ اگر انہیں نئے تجربات، بہتر رہنمائی اور مختلف شعبوں سے واقفیت کا موقع دیا جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں۔

یہ سیاسی جلسہ نہیں، نوجوانوں کے مستقبل اور مسائل پر بات کرنے آیا ہوں: راہل گاندھی

کوٹا مہاریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ یہاں نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے مسائل پر بات کرنے آئے ہیں، نہ کہ سیاست کے لیے۔ انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں کوٹا آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہونے پر خوش اور خود کو اعزاز یافتہ محسوس کر رہا ہوں۔ میں ایک بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی سیاسی میٹنگ نہیں ہے۔ یہ میٹنگ آپ کے بارے میں ہے، ان نوجوانوں کے بارے میں ہے جو اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ اس شام ان کی زبان سے بی جے پی، کانگریس، سیاست یا انتخابات جیسے الفاظ نہیں نکلیں گے، کیونکہ یہ مکالمہ صرف طلبہ کے چیلنجز اور ان کے مستقبل پر مرکوز ہے۔

راہل گاندھی کا خطاب شروع، کوٹا مہاریلی میں طلبہ کا زبردست جوش و خروش

کوٹا میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ مہاریلی میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کا خطاب شروع ہو گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں طلبہ کی بڑی تعداد موجود ہے اور نوجوانوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اپنے ابتدائی خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ ’یہ اجلاس آپ کے لیے ہے، یہ کسی سیاست یا کسی پارٹی کے لیے نہیں ہے بلکہ آپ کے چیلنجز، آپ کے مسائل اور آپ کے مستقبل کے حوالے سے ہے۔‘ انہوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ اس مکالمے کا مقصد ان کے مسائل کو سننا اور انہیں قومی سطح پر اٹھانا ہے۔ راہل گاندھی کی تقریر کے آغاز پر طلبہ نے نعروں اور تالیوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔


کوٹا میں راہل گاندھی کے پروگرام کے لیے طلبہ کا جوش، رجسٹریشن کاؤنٹروں پر طویل قطاریں

کوٹا میں راہل گاندھی کے مجوزہ طلبہ مکالمہ پروگرام سے قبل زبردست جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پروگرام میں شرکت کے لیے قائم رجسٹریشن کاؤنٹروں پر صبح سے طلبہ کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ منتظمین کے مطابق پروگرام میں داخلہ صرف رجسٹریشن کرانے والے طلبہ کو دیا جائے گا اور اس کے لیے طلبہ کی شناخت کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ مختلف کوچنگ اداروں اور طلبہ ہاسٹلز سے بڑی تعداد میں نوجوان رجسٹریشن مراکز پہنچ رہے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ طلبہ کی غیر معمولی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان امتحانی نظام، پیپر لیک اور تعلیمی مسائل پر اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔

ان پٹ: نندلال

<div class="paragraphs"><p>مہاریلی کے مقام کے باہر طلبہ کی بھیڑ / تصویر قومی آواز / نندلال</p></div>

مہاریلی کے مقام کے باہر طلبہ کی بھیڑ / تصویر قومی آواز / نندلال

راہل گاندھی نے ریا اور اُمیش کی موت کا ذکر کرتے ہوئے نظام پر اٹھائے سوال

کوٹا روانگی سے قبل راہل گاندھی نے ایکس پر جاری بیان میں سی کر کے اُمیش اور دہرادون کی ریا کی موت کا ذکر کیا، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ری-نیٹ کے دباؤ کا شکار تھے۔ راہل گاندھی نے ان واقعات کو ایک ’ٹوٹے ہوئے اور بدعنوان نظام‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہدف تنقید بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کوٹا سے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم کا آغاز ہوگا۔


طلبہ کو راہل گاندھی سے بڑی امیدیں، پیپر لیک اور ذہنی دباؤ اہم موضوعات

کوٹا میں زیر تعلیم طلبہ نے راہل گاندھی کے پروگرام سے بڑی توقعات وابستہ کی ہیں۔ مختلف طلبہ کا کہنا ہے کہ پیپر لیک، امتحانی شفافیت، کوچنگ کلچر اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل پر سنجیدہ گفتگو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کئی طلبہ نے کہا کہ برسوں کی محنت کے بعد جب امتحانات کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں تو ان کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ اگر ان کے مسائل براہ راست قومی سطح کے رہنماؤں تک پہنچیں تو تعلیمی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ طلبہ اس مکالمے کو اپنی آواز ملک بھر تک پہنچانے کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دے رہے ہیں۔

اشوک گہلوت کا الزام، راہل گاندھی کے پروگرام سے بی جے پی بوکھلا گئی

راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے الزام لگایا ہے کہ راہل گاندھی کے کوٹا دورے اور طلبہ سے مکالمہ پروگرام سے بی جے پی بوکھلا گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں، اسی لیے ان کے پروگرام کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گہلوت نے دعویٰ کیا کہ ملک میں متعدد پیپر لیک کے واقعات سامنے آ چکے ہیں اور نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے مسائل پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے اور ایسے افسوسناک حالات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔


کانگریس کا دعویٰ، رکاوٹوں کے باوجود کوٹا مہاریلی کامیاب ہوگی

کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ کوٹا میں راہل گاندھی کے پروگرام کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود مہاریلی کامیاب ہوگی۔ کانگریس ترجمان راگنی نایک نے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل، خصوصاً پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف راہل گاندھی مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوچنگ مراکز اور طلبہ پر دباؤ ڈالے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود نوجوان بڑی تعداد میں پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم ملک بھر کے طلبہ کے مسائل کو قومی سطح پر نمایاں کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔