کوٹا میں راہل گاندھی کی طلبہ سے براہِ راست گفتگو: نیٹ، کوچنگ اور روزگار پر بڑی بحث

کوٹا میں راہل گاندھی طلبہ سے براہ راست مکالمہ کر رہے ہیں۔ پیپر لیک، نیٹ تنازعہ، امتحانی شفافیت، ذہنی دباؤ اور تعلیمی اصلاحات جیسے اہم موضوعات پر نوجوانوں کی رائے اور مطالبات سامنے آ رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

راہل گاندھی کا تعلیمی نظام پر بڑا حملہ، ’یہ تعلیم کا نہیں بلکہ پیسہ نکالنے کا نظام ہے‘

راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں تعلیمی نظام، روزگار اور خاندانوں پر بڑھتے مالی بوجھ کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام طلبہ اور ان کے والدین سے بھاری رقم وصول کرتا ہے، مگر اس کے بدلے کامیابی اور روزگار کی کوئی ضمانت نہیں دیتا۔ انہوں نے نیٹ، جے ای ای، یو پی ایس سی، ایس ایس سی اور ریلوے بھرتی جیسے بڑے امتحانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں خاندان اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے قرض لیتے ہیں اور اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، لیکن کامیابی کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔

راہل گاندھی کے مطابق صرف نیٹ امتحان کی تیاری اور اس سے جڑے اخراجات کے ذریعے ہر سال خاندانوں سے ایک لاکھ 32 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے پانچ بڑے امتحانات کے ذریعے والدین کی جیبوں سے نکلنے والی رقم بعض اہم وزارتوں کے مجموعی بجٹ کے برابر پہنچ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ تعلیمی نظام نوجوانوں کے خواب پورے کرنے کے بجائے ان پر مالی دباؤ بڑھا رہا ہے۔

اس دوران انہوں نے اسٹیج پر موجود ایک طالبہ بھاونا مہاویر اور اس کے والدین سے بھی گفتگو کی۔ طالبہ کے والد نے بتایا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنی بیٹی کے خواب پورے کرنے کے لیے گھر تک فروخت کرنے کو تیار ہیں۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم دلانا صرف والدین کی نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ طالبہ اور اس کی والدہ نے بھی امتحانی نظام، محدود نشستوں اور طلبہ میں بڑھتی بے چینی پر تشویش ظاہر کی۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ موجودہ تعلیمی ڈھانچہ ایک ’ایکسٹورشن مشین‘ کی طرح کام کر رہا ہے، جہاں اسکول، ٹیوشن، کوچنگ، امتحانات اور دیگر اخراجات کے ذریعے مسلسل رقم وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تعلیم مکمل ہونے کے باوجود روزگار کی ضمانت نہیں ملتی اور ہزاروں میں سے صرف چند نوجوان ہی مستقل ملازمت حاصل کر پاتے ہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ملک کو ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے، اپنی پسند کے شعبوں کا انتخاب کرنے اور کم سے کم مالی بوجھ کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کا موقع دے۔ انہوں نے طلبہ سے تجاویز طلب کرتے ہوئے اس مہم کو ایک وسیع تحریک کی شروعات قرار دیا اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات پر زور دیا۔

طلبہ نے راہل گاندھی سے بیان کیں نیٹ اور جے ای ای کی مشکلات

اسٹیج پر موجود طلبہ نے راہل گاندھی کو بتایا کہ نیٹ اور جے ای ای جیسے امتحانات کی تیاری میں برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ بعض طلبہ نے کہا کہ پرچہ لیک جیسے واقعات ان کی امیدوں کو توڑ دیتے ہیں، جبکہ دوسرے طلبہ نے محدود مواقع اور سخت مقابلے پر تشویش ظاہر کی۔

طلبہ نے بتایا کہ نیٹ کی تیاری کے لیے کوچنگ، ہاسٹل اور دیگر اخراجات ملا کر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ متوسط اور کسان خاندان اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں، جو تعلیمی نظام کی ایک سنگین حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔

راہل گاندھی نے مختلف امتحانات کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں امیدواروں میں سے صرف چند طلبہ ہی آئی اے ایس، آئی آئی ٹی یا میڈیکل کالجوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان انتہائی سخت مقابلے اور غیر معمولی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ بھارت کا موجودہ تعلیمی ڈھانچہ طلبہ کے انتخاب سے زیادہ ان کے اخراج پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں نوجوانوں کو برسوں کی محنت کے بعد ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ذہنی دباؤ اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔

سرکاری تعلیم کی کمزوری اور نجی تعلیم کی بڑھتی لاگت

راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان میں سرکاری تعلیمی نظام مسلسل کمزور ہوا ہے، جبکہ نجی تعلیم عام خاندانوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تعلیم اتنی مہنگی کیوں ہو گئی ہے اور نوجوانوں کو اپنے خواب پورے کرنے کے لیے بھاری مالی بوجھ کیوں برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام نوجوانوں کو ضرورت سے زیادہ دباؤ، تناؤ اور غیر یقینی صورتحال میں دھکیل رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے انہیں مسلسل خوف اور مقابلے کی فضا میں رکھتا ہے، جو ملک کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔


موجودہ تعلیمی نظام نے نوجوانوں کے خوابوں کو محدود کر دیا، راہل گاندھی

کوٹا میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کا موجودہ تعلیمی نظام نوجوانوں کو چند مخصوص پیشوں تک محدود کر دیتا ہے، حالانکہ ہر طالب علم کے اندر الگ صلاحیت اور الگ خواب موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کنیا کماری سے کشمیر تک اپنے سفر کے دوران جب وہ نوجوانوں سے پوچھتے تھے کہ وہ مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں تو زیادہ تر جوابات چند روایتی شعبوں، جیسے ڈاکٹر، انجینئر، سرکاری افسر یا اسی نوعیت کے دیگر پیشوں تک محدود ہوتے تھے۔

راہل گاندھی کے مطابق جب وہ نوجوانوں سے انفرادی سطح پر تفصیلی گفتگو کرتے تو ان کے اصل خواب سامنے آتے۔ کوئی لڑکی خلاباز (ایسٹروناٹ) بننا چاہتی تھی، کوئی گلوکارہ بننے کی خواہش رکھتی تھی اور کوئی کسی دوسرے منفرد شعبے میں جانا چاہتا تھا۔ انہوں نے ایک تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مقام پر وزیر اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر موجود تھا۔ انہوں نے چند طالبات کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرائی اور پائلٹ سے درخواست کی کہ وہ انہیں کاک پٹ بھی دکھائیں۔ بعد میں جب انہی طالبات سے دوبارہ پوچھا گیا کہ وہ کیا بننا چاہتی ہیں تو سب نے جواب دیا کہ وہ پائلٹ بننا چاہتی ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اس تجربے سے انہیں احساس ہوا کہ نوجوانوں کے خواب اکثر مواقع کی کمی کے باعث محدود رہ جاتے ہیں۔ اگر انہیں نئے تجربات، بہتر رہنمائی اور مختلف شعبوں سے واقفیت کا موقع دیا جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں۔

نیٹ پرچہ لیک: راہل گاندھی نے آکانکشا کا ذکر کرتے ہوئے تعلیمی نظام پر اٹھائے سوالات

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے نیٹ پرچہ لیک معاملے پر خطاب کرتے ہوئے آکانکشا نامی طالبہ کا ذکر کیا، جو ڈاکٹر بننے کا خواب رکھتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آکانکشا کے والد نے قرض لے کر اس کی تعلیم کا انتظام کیا، لیکن نیٹ پرچہ لیک ہونے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی اور بعد میں اس نے اپنی جان دے دی۔ راہل گاندھی کے مطابق آکانکشا نے اپنے آخری خط میں لکھا تھا، ’’سوری ممی پاپا، میں نے آپ لوگوں کا سب کچھ برباد کر دیا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک طالبہ کی نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام کی ناکامی ہے۔ راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ سب کو مل کر ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے جہاں کوئی بھی طالب علم مایوسی یا ناامیدی کے باعث اپنی زندگی کے بارے میں منفی فیصلہ کرنے پر مجبور نہ ہو۔


یہ سیاسی جلسہ نہیں، نوجوانوں کے مستقبل اور مسائل پر بات کرنے آیا ہوں: راہل گاندھی

کوٹا مہاریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ یہاں نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے مسائل پر بات کرنے آئے ہیں، نہ کہ سیاست کے لیے۔ انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں کوٹا آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہونے پر خوش اور خود کو اعزاز یافتہ محسوس کر رہا ہوں۔ میں ایک بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی سیاسی میٹنگ نہیں ہے۔ یہ میٹنگ آپ کے بارے میں ہے، ان نوجوانوں کے بارے میں ہے جو اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ اس شام ان کی زبان سے بی جے پی، کانگریس، سیاست یا انتخابات جیسے الفاظ نہیں نکلیں گے، کیونکہ یہ مکالمہ صرف طلبہ کے چیلنجز اور ان کے مستقبل پر مرکوز ہے۔

راہل گاندھی کا خطاب شروع، کوٹا مہاریلی میں طلبہ کا زبردست جوش و خروش

کوٹا میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ مہاریلی میں لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کا خطاب شروع ہو گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں طلبہ کی بڑی تعداد موجود ہے اور نوجوانوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اپنے ابتدائی خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ ’یہ اجلاس آپ کے لیے ہے، یہ کسی سیاست یا کسی پارٹی کے لیے نہیں ہے بلکہ آپ کے چیلنجز، آپ کے مسائل اور آپ کے مستقبل کے حوالے سے ہے۔‘ انہوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ اس مکالمے کا مقصد ان کے مسائل کو سننا اور انہیں قومی سطح پر اٹھانا ہے۔ راہل گاندھی کی تقریر کے آغاز پر طلبہ نے نعروں اور تالیوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔


کوٹا میں راہل گاندھی کے پروگرام کے لیے طلبہ کا جوش، رجسٹریشن کاؤنٹروں پر طویل قطاریں

کوٹا میں راہل گاندھی کے مجوزہ طلبہ مکالمہ پروگرام سے قبل زبردست جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پروگرام میں شرکت کے لیے قائم رجسٹریشن کاؤنٹروں پر صبح سے طلبہ کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ منتظمین کے مطابق پروگرام میں داخلہ صرف رجسٹریشن کرانے والے طلبہ کو دیا جائے گا اور اس کے لیے طلبہ کی شناخت کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ مختلف کوچنگ اداروں اور طلبہ ہاسٹلز سے بڑی تعداد میں نوجوان رجسٹریشن مراکز پہنچ رہے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ طلبہ کی غیر معمولی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان امتحانی نظام، پیپر لیک اور تعلیمی مسائل پر اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔

ان پٹ: نندلال

<div class="paragraphs"><p>مہاریلی کے مقام کے باہر طلبہ کی بھیڑ / تصویر قومی آواز / نندلال</p></div>

مہاریلی کے مقام کے باہر طلبہ کی بھیڑ / تصویر قومی آواز / نندلال

راہل گاندھی نے ریا اور اُمیش کی موت کا ذکر کرتے ہوئے نظام پر اٹھائے سوال

کوٹا روانگی سے قبل راہل گاندھی نے ایکس پر جاری بیان میں سی کر کے اُمیش اور دہرادون کی ریا کی موت کا ذکر کیا، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ری-نیٹ کے دباؤ کا شکار تھے۔ راہل گاندھی نے ان واقعات کو ایک ’ٹوٹے ہوئے اور بدعنوان نظام‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہدف تنقید بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کوٹا سے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم کا آغاز ہوگا۔


طلبہ کو راہل گاندھی سے بڑی امیدیں، پیپر لیک اور ذہنی دباؤ اہم موضوعات

کوٹا میں زیر تعلیم طلبہ نے راہل گاندھی کے پروگرام سے بڑی توقعات وابستہ کی ہیں۔ مختلف طلبہ کا کہنا ہے کہ پیپر لیک، امتحانی شفافیت، کوچنگ کلچر اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل پر سنجیدہ گفتگو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کئی طلبہ نے کہا کہ برسوں کی محنت کے بعد جب امتحانات کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں تو ان کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ اگر ان کے مسائل براہ راست قومی سطح کے رہنماؤں تک پہنچیں تو تعلیمی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ طلبہ اس مکالمے کو اپنی آواز ملک بھر تک پہنچانے کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دے رہے ہیں۔

اشوک گہلوت کا الزام، راہل گاندھی کے پروگرام سے بی جے پی بوکھلا گئی

راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے الزام لگایا ہے کہ راہل گاندھی کے کوٹا دورے اور طلبہ سے مکالمہ پروگرام سے بی جے پی بوکھلا گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں، اسی لیے ان کے پروگرام کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گہلوت نے دعویٰ کیا کہ ملک میں متعدد پیپر لیک کے واقعات سامنے آ چکے ہیں اور نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے مسائل پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے اور ایسے افسوسناک حالات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔


کانگریس کا دعویٰ، رکاوٹوں کے باوجود کوٹا مہاریلی کامیاب ہوگی

کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ کوٹا میں راہل گاندھی کے پروگرام کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود مہاریلی کامیاب ہوگی۔ کانگریس ترجمان راگنی نایک نے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل، خصوصاً پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف راہل گاندھی مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوچنگ مراکز اور طلبہ پر دباؤ ڈالے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود نوجوان بڑی تعداد میں پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم ملک بھر کے طلبہ کے مسائل کو قومی سطح پر نمایاں کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔