ٹرمپ کے بیان ’ایران کے ساتھ سمجھوتے کا دور اب ختم ہو چکا‘ کے بعد شیئر مارکیٹ کریش، سینسیکس 1900 پوائنٹس گر گیا

شیئر مارکیٹ میں بڑی گراوٹ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آئی ہے، جس میں امریکی صدر نے کہا کہ میں ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کی نئی ڈیل نہیں کرنا چاہتا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)</p></div>
i

شیئر مارکیٹ میں اچانک کہرام مچ گیا ہے۔ ہفتے کے تیسرے کاروباری روز بدھ کو گراوٹ کے ساتھ کھلنے کے بعد آخری کاروباری گھنٹے میں بڑا بھونچال آیا اور بامبے اسٹاک ایکسچینج کا 30 شیئرز والا سینسیکس 1900 پوائنٹس سے زیادہ، جبکہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا 50 شیئرز والا انڈیکس نفٹی 550 پوائنٹس سے زیادہ پھسل گیا۔ لارج کیپ، مڈکیپ سے لے کر اسمال کیپ تک ہر طرف بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ اس گراوٹ کا براہ راست ڈونالڈ ٹرمپ سے تعلق نظر آ رہا ہے، جنہوں نے ایران کو لے کر بڑا بیان دیا ہے اور اس کے بعد سے مارکیٹ کریش ہو گئی۔

شیئر مارکیٹ میں بدھ کو کاروبار کا آغاز گراوٹ کے ساتھ سرخ نشان پر ہوا تھا اور مارکیٹ بند ہونے سے گھنٹہ بھر پہلے ہی سینسیکس اور نفٹی کریش ہو گئے۔ بی ایس ای کا سینسیکس اپنے گزشتہ بند 78180 کے مقابلے میں گراوٹ کے ساتھ کھلا اور محض 5 منٹ کے کاروبار کے دوران ہی یہ 550 پوائنٹس سے زیادہ پھسل گیا تھا۔ اس کے بعد کافی دیر تک اس ہلکی گراوٹ میں کاروبار کرنے کے بعد دوپہر 2:37 بجے بی ایس ای سینسیکس تقریباً 1900 پوائنٹس گر کر 76277 کی سطح پر آ گیا۔ سینسیکس کی طرح ہی نفٹی انڈیکس کا بھی برا حال رہا۔ یہ این ایس ای انڈیکس 24398 کے اپنے گزشتہ بند کے مقابلے کھلتے ہی گر کر 24259 پر آ گیا اور اس میں گراوٹ کی رفتار بھی تیز ہو گئی۔ نفٹی 550 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 23845 پر کاروبار کر رہا تھا۔


شیئر مارکیٹ میں بڑی گراوٹ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آئی ہے، جس میں امریکی صدر نے کہا کہ میں ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کی نئی ڈیل نہیں کرنا چاہتا۔ ایران کے ساتھ سمجھوتے کا دور اب ختم ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ بات چیت وقت کی بربادی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہاں تک کہہ دیا کہ ایرانی بیمار لوگ ہیں۔ میں ان سے کوئی ڈیل نہیں کرنا چاہتا۔ ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے کی ان کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ مسئلہ اب ختم ہو چکا ہے۔

ایران کے متعلق ٹرمپ کے دیے گئے بیان کا اثر بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت پر بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت اچانک 6.50 فیصد کے زبردست اچھال کے ساتھ 79 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے، تو وہیں ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت بھی اس تیزی کے ساتھ 75 ڈالر کی سطح ایک بار پھر پار کر گئی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ شیئر مارکیٹ کریش ہونے کے دوران ہر کیٹیگری میں بھونچال دیکھنے کو ملا۔ بی ایس ای کی لارج کیپ کیٹیگری میں شامل تمام 30 شیئرز گراوٹ کے ساتھ سرخ نشان پر کاروبار کرتے ہوئے نظر آئے۔ انڈیگو کے شیئرز (5.50 فیصد)، ماروتی کے شیئرز (4.60 فیصد)، ایچ یو ایل کے شیئرز (3.50 فیصد)، بجاج فنانس کے شیئرز (3.48 فیصد)، ایم اینڈ ایم کے شیئرز (3.20 فیصد)، ایشین پینٹس کے شیئرز (3 فیصد) اور بی ای ایل کے شیئرز (2.90 فیصد) پھسل کر کاروبار کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ایچ ڈی ایف سی بینک، ایکسس بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایس بی آئی، ریلائنس، اڈانی پورٹس، ایچ سی ایل اور ٹی سی ایس سمیت تمام بڑے اسٹاکس 2 فیصد سے زیادہ پھسل گئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔