فلم ’ستلج‘ پر پابندی کے خلاف اکالی رہنماؤں کا احتجاج، کہا- ’کیرالہ اسٹوری‘ اور ’کشمیر فائلز‘ چل سکتی ہیں تو یہ کیوں نہیں؟
شیرومنی اکالی دل (دہلی) نے فلم ستلج پر پابندی کے خلاف خصوصی نمائش کا اہتمام کرتے ہوئے کہا کہ سکھوں کی تاریخ کو دبایا جا رہا ہے، اگر دیگر متنازع فلمیں نمائش پا سکتی ہیں تو ستلج پر پابندی کیوں لگائی گئی

شیرومنی اکالی دل (دہلی) نے پنجابی فلمی اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ پر عائد پابندی کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’دی کیرالہ اسٹوری‘ اور ’دی کشمیر فائلز‘ جیسی متنازع فلموں کی نمائش کی جا سکتی ہے تو پھر ’ستلج‘ کو کیوں روکا جا رہا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ اس فلم کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں گے اور جہاں بھی اس کی نمائش کی درخواست موصول ہوگی وہاں اس کا انتظام کیا جائے گا۔
دہلی میں شیرومنی اکالی دل کی جانب سے فلم کی خصوصی نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز ہونے کے تقریباً 48 گھنٹوں کے اندر ہٹا دیا گیا، جس پر سکھ تنظیموں اور اکالی رہنماؤں نے شدید اعتراض ظاہر کیا۔
شیرومنی اکالی دل (دہلی) کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا نے کہا کہ آزادی کے بعد سے سکھ برادری کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہوتی رہی ہے اور آج بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھوں پر ہونے والے مظالم پر مبنی فلم تیار کی گئی، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں میں اس موضوع پر ایسی کوئی فلم سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ سکھ برادری کے ساتھ کیا کچھ ہوا۔
پرمجیت سنگھ سرنا نے دعویٰ کیا کہ بعض اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے غلط مشورے دے کر فلم پر پابندی لگوانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فلم سے متعلق فیصلے کرنے والی کمیٹی میں سکھ نمائندے ہی شامل نہیں ہیں تو ایسی کمیٹی کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھ برادری اس فلم کو ضرور دیکھے گی اور اس کی نمائش جاری رکھنے کی کوشش کرے گی۔
شیرومنی اکالی دل کے سینئر رہنما منجیت سنگھ جی کے نے کہا کہ اس فلم کو برسوں تک روکے رکھا گیا، پھر پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، لیکن صرف چند دن نمائش کے بعد ہی اس پر پابندی لگا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ’دی کشمیر فائلز‘ اور ’دی کیرالہ اسٹوری‘ جیسی فلموں کی نمائش ممکن ہے تو ’ستلج‘ کو روکنے کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی۔ ان کے مطابق یہ سکھ تاریخ کو دبانے کی کوشش ہے۔
منجیت سنگھ جی کے نے کہا کہ ان کی جماعت فلم کی نمائش کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھوں کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور عوام اس فلم کو دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے اس پر پابندی عائد کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گردواروں کی جانب سے فلم کی نمائش کی درخواست موصول ہوئی تو وہاں بھی اس کا انتظام کیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ فلم کو گھر گھر تک پہنچانے کی مہم جاری رکھی جائے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
