آواز کا نمونہ دینے کے لیے دوسری بار بھی عدالت نہیں پہنچے ابھیشیک بنرجی، سی آئی ڈی کا جان بوجھ کر تاخیر کا الزام

ابھیشیک بنرجی دوسری بار بھی آواز کا نمونہ دینے کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ سی آئی ڈی نے عدالت میں الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر نفرت انگیز تقریر کے مقدمے کی جانچ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>ابھیشیک بنرجی، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی بدھ کے روز بھی شمالی چوبیس پرگنہ ضلع کی بیدھان نگر عدالت میں آواز کا نمونہ دینے کے لیے پیش نہیں ہوئے۔ انہیں حالیہ اسمبلی انتخابات کے دوران مبینہ نفرت انگیز تقریر کے مقدمے کی جانچ کے سلسلے میں سی آئی ڈی کے سامنے اپنی آواز کا نمونہ پیش کرنا تھا، تاہم مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود وہ عدالت نہیں پہنچے۔

عدالت کے حکم کے مطابق ابھیشیک بنرجی کو دوپہر بارہ بجے تک عدالتی مجسٹریٹ اور فارنسک ماہرین کی موجودگی میں اپنی آواز کا نمونہ دینا تھا۔ سی آئی ڈی کے افسران وقت پر عدالت پہنچ گئے تھے اور انہوں نے کافی دیر تک انتظار بھی کیا، لیکن ابھیشیک بنرجی کی عدم موجودگی کے باعث کارروائی مکمل نہ ہو سکی۔

بعد ازاں سرکاری وکیل بیباس چٹوپادھیائے نے عدالت کو بتایا کہ ابھیشیک بنرجی دوسری مرتبہ بھی آواز کا نمونہ دینے کے لیے حاضر نہیں ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جانچ کے عمل میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہے ہیں اور تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


سرکاری وکیل نے عدالت میں ایک تحریری بیان بھی داخل کیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ ابھیشیک بنرجی دانستہ طور پر نفرت انگیز تقریر کے مقدمے کی جانچ کو طول دے رہے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسا بیان دیا تھا جس سے تشدد بھڑک سکتا تھا اور انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دھمکی بھی دی تھی۔

تحریری بیان میں مزید کہا گیا کہ بار بار عدالت میں حاضر نہ ہونا عدالتی حکم کی جان بوجھ کر خلاف ورزی ہے، اس لیے اب ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔

اس سے ایک روز قبل کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے بھی سماعت کے دوران سوال اٹھایا تھا کہ جب ابھیشیک بنرجی کو اکتیس جولائی تک گرفتاری سمیت کسی بھی پولیس کارروائی سے عبوری راحت حاصل ہے تو پھر وہ جانچ میں تعاون کرنے سے کیوں گریز کر رہے ہیں۔

ابھیشیک بنرجی کے وکیل نے ضلع عدالت کے اس حکم کے خلاف فوری سماعت کی درخواست کی تھی، جس میں آواز کا نمونہ دینے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے فوری سماعت کی یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہیں جانچ ایجنسیوں کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے اور بلا تاخیر آواز کا نمونہ فراہم کرنا چاہیے۔