
کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی والے 2022 کے فیصلہ کو واپس لے لیا ہے۔ نئے حکم کے تحت طلبا کو حجاب کے علاوہ کلاوا، رودراکش اور جنیو پہننے کی بھی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ یہ اسکول کے نظم و ضبط اور قواعد کے تحت ہوں۔ فروری 2022 میں اُس وقت کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے ایک حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت سرکاری پری یونیورسٹی کالجوں میں طلبا کے لیے مقررہ یونیفارم کی پابندی لازمی قرار دی گئی تھی۔ لیکن اب حجاب، جنیو، کلاوا اور رودراکش وغیرہ کے استعمال کی بھی اجازت مل گئی ہے۔
Published: undefined
کانگریس حکومت کا جو نیا حکم نامہ سامنے آیا ہے، اس میں 4 اہم نکات ہیں۔ جاری حکم میں بتایا گیا ہے کہ یونیفارم کے ساتھ محدود روایتی اور رسوم و رواج پر مبنی علامتیں پہننے کی اجازت ہے۔ طلبا و طالبات حجاب کے علاوہ پگڑی، جنیو، کلاوا، شیو مالا اور رودراکش پہن سکتے ہیں۔ رسوم و رواج سے جڑی علامتیں لازمی نہیں ہیں، اگر کوئی پہن کر آتا ہے تو کلاس میں انٹری ملے گی۔ امتحان کے دوران ڈریس کوڈ پر پوری طرح سے عمل کیا جائے گا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ فروری 2022 میں جاری حکم میں کہا گیا تھا کہ ایسے کپڑے پہننے کی اجازت نہیں ہوگی جو ’برابری، اتحاد اور عوامی نظم‘ کو متاثر کریں۔ اسی حکم کے بعد کئی سرکاری تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کلاس میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
Published: undefined
کرناٹک کے اُڈوپی ضلع کے ایک کالج میں 31 دسمبر 2021 کو 6 مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روک دیا گیا تھا، جس کے بعد وہ دھرنے پر بیٹھ گئی تھیں۔ یہ تنازعہ ریاست کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل گیا۔ اس کے بعد ہندو تنظیموں سے وابستہ طلبا نے جواب میں بھگوا شال پہن کر کالج آنا شروع کر دیا۔ تشدد ہونے کے بعد فروری 2022 میں ریاستی حکومت نے اسکولوں اور کالجوں میں ہر طرح کے مذہبی شناخت والے کپڑے پہننے پر پابندی لگا دی۔ حکم میں کہا گیا تھا کہ ایسا کوئی بھی لباس، جو برابری، یکجہتی اور عوامی قانون و نظم کو متاثر کرے گا، اسے پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس حکم کو لے کر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔
Published: undefined
مارچ 2022 میں کرناٹک ہائی کورٹ نے حکومت کے حکم کو درست قرار دیا اور کہا کہ اسلام میں حجاب ’لازمی مذہبی عمل‘ ثابت نہیں ہوا۔ پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔ اکتوبر 2022 میں سپریم کورٹ کی 2 ججوں کی بنچ میں منقسم فیصلہ آیا۔ ایک جج نے پابندی ہٹانے کی بات کہی، جبکہ دوسرے نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
Published: undefined
اکتوبر 2022 میں سپریم کورٹ کی 2 ججوں کی بنچ نے منقسم فیصلہ دیا۔ جسٹس ہیمنت گپتا نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ اور پابندی کو درست مانا۔ جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا کہ طالبات کی تعلیم اور پسند زیادہ اہم ہے اور پابندی غلط ہے۔ دونوں ججوں کی رائے الگ ہونے کی وجہ سے معاملہ بڑی بنچ کو بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد کئی سال تک بڑی بنچ میں باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہوئی اور حتمی آئینی فیصلہ زیر التوا رہا۔
Published: undefined
اس دوران قانونی صورت حال یہ رہی کہ کرناٹک ہائی کورٹ کا 2022 والا فیصلہ مؤثر مانا جاتا رہا، کیونکہ سپریم کورٹ نے اسے مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا تھا۔ 4 سال کے انتظار کے بعد جب عدالت کی طرف سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا، تب کرناٹک کی کانگریس حکومت نے انتظامی سطح پر پرانا پابندی والا حکم واپس لے لیا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined