بہار میں زیورات کی دکانوں میں حجاب پر پابندی، آر جے ڈی کا شدید اعتراض، بی جے پی کی حمایت

بہار میں زیورات کی دکانوں میں چہرہ ڈھانپ کر آنے پر پابندی کے فیصلے سے سیاست گرم ہو گئی ہے۔ بی جے پی نے سکیورٹی کے نام پر حمایت کی جبکہ آر جے ڈی نے اسے آئین اور مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پٹنہ: بہار میں زیورات کی دکانوں میں چہرہ ڈھانپ کر آنے والے گاہکوں کے داخلے پر پابندی کے فیصلے کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت حجاب، برقع، نقاب، گھونگھٹ، ماسک اور ہیلمٹ پہن کر آنے والے افراد کو زیورات کی دکانوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ آل انڈیا جیولرز گولڈسمتھ فیڈریشن کی بہار اکائی نے دکانوں میں بڑھتی چوری اور لوٹ کی وارداتوں کے پیش نظر کیا ہے۔

فیڈریشن کے مطابق حالیہ مہینوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث زیورات کی دکانیں جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر آ گئی ہیں۔ اسی سکیورٹی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے دکانداروں نے یہ طے کیا کہ چہرہ ڈھانپ کر آنے والے کسی بھی فرد کو دکان میں داخل ہونے سے پہلے اپنا چہرہ ظاہر کرنا ہوگا۔ اس فیصلے کی اطلاع مقامی پولیس انتظامیہ کو بھی دے دی گئی ہے اور پٹنہ سمیت کئی شہروں میں دکانوں کے باہر اس حوالے سے نوٹس آویزاں کر دیے گئے ہیں۔


اس فیصلے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ آر جے ڈی کے ریاستی ترجمان اعجاز احمد نے کہا کہ سکیورٹی کے نام پر حجاب اور نقاب کو نشانہ بنانا ہندوستانی آئین اور آئینی روایات کے سراسر خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق پر حملہ ہے اور اس سے ایک خاص مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسے اقدامات کے پیچھے فرقہ وارانہ ایجنڈا کارفرما ہے اور زیورات کے دکانداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی مذہب یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً سکیورٹی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان نیرج کمار کے مطابق زیورات کی دکانوں میں چہرہ ڈھانپ کر داخل ہونے سے جرائم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے یہ قدم عوام اور دکانداروں دونوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔