قومی خبریں

اسمبلی انتخاب: بی جے پی نے کیرالہ کے لیے تیسری اور پڈوچیری کے لیے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی

مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کے لیے بی جے پی نے ہفتے کے روز اپنی پہلی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں 9 امیدواروں کے نام شامل ہیں۔

بی جے پی / علامتی تصویر
بی جے پی / علامتی تصویر 

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے اپنی تیاریاں تیز کرتے ہوئے ہفتے کے روز کیرالہ اور پڈوچیری کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ پڈوچیری کے لیے بی جے پی نے 9 امیدواروں پر مشتمل پہلی فہرست اور کیرالہ کے لیے 11 امیدواروں پر مشتمل تیسری فہرست جاری کی ہے۔ پڈوچیری اسمبلی میں کل 30 سیٹیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے 16 سیٹوں کی اکثریت درکار ہوتی ہے، جبکہ کیرالہ اسمبلی میں کل 140 سیٹیں ہیں، جہاں اکثریت کے لیے 71 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

Published: undefined

بی جے پی کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے کیرالہ اسمبلی انتخاب کے لیے 21 مارچ کو اپنی تیسری فہرست جاری کر دی ہے۔ کیرالہ کی سیاست میں اصل مقابلہ برسراقتدار لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) اور اپوزیشن یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کے درمیان رہا ہے۔ فی الحال وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کی قیادت میں ایل ڈی ایف مسلسل تیسری بار اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ کانگریس کی قیادت والی یوڈی ایف اقتدار میں واپسی کی کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے اس بار کیرالہ میں قدم جمانے کی کوشش میں مصروف ہے۔

Published: undefined

مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری کے لیے بی جے پی نے ہفتے کے روز اپنی پہلی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں 9 امیدواروں کے نام شامل ہیں۔ امیدواروں کے ناموں کو پارٹی کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے حتمی شکل دی ہے۔ اس اجلاس کی صدارت نتن نبین نے کی اور اس میں وزیر اعظم نریندر مودی، راجناتھ سنگھ اور امت شاہ سمیت کئی سینئر رہنما شریک تھے۔ پڈوچیری کی تمام 30 اسمبلی سیٹوں پر 9 اپریل کو ووٹنگ ہے، اور انتخاب کے نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی پارٹی یا اتحاد کو کم از کم 16 سیٹوں پر جیت درج کرنی ہوگی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ پڈوچیری میں فی الحال این ڈی اے اتحاد (اے آئی این آر سی اور بی جے پی) کی حکومت چل رہی ہے۔ یہاں بی جے پی اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کے ارادے سے میدان میں اتری ہے تاکہ اتحاد کا اقتدار برقرار رکھا جا سکے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined