ایران میں اب تک 2000 لوگوں کی موت، امریکہ-اسرائیل پر تہران برہم

تہران یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فواد ایزدی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے نہ صرف ایران بلکہ ہندوستان سمیت کئی دیگر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

ایرانی پرچم کی فائل تصویرآئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

تہران یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فواد ایزدی نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کو غیر قانونی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ان حملوں میں 2000 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں 165 بچیاں بھی شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے اس جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا۔

پروفیسر فواد ایزدی نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ اسرائیل کے دباؤ میں ہوا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس خطے میں غلبہ قائم کرنے کے لیے امریکی فوجیوں کا استعمال کر رہا ہے۔ پروفیسر فواد کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے نہ صرف ایران بلکہ ہندوستان سمیت کئی دیگر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اسرائیل کا مقصد ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جیسا انہوں نے 1953 میں ایک تختہ پلٹ کے دوران کیا تھا۔


ایرانی پروفیسر نے کہا کہ ’’ایران نے شروعات میں صرف امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا، کیونکہ وہ قانونی فوجی اہداف ہیں۔ ایران نے تیل کی تنصیبات کو تب تک نشانہ نہیں بنایا جب تک کہ دوسری طرف سے ایرانی تیل تنصیبات پر حملہ نہیں کیا گیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’تیل ریفائنری عام طور پر قانونی فوجی ہدف نہیں ہوتی، لیکن جب ہماری طرف حملہ کیا گیا تو ایران کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا۔‘‘

تہران یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے مطابق یہ تنازعہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور سیاسی استحکام پر بھی اثر ڈال رہا ہے۔ ان کا یہ بیان ایران اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔