’مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے‘، عید کی نماز کے بعد ممتا بنرجی کا لوگوں سے خطاب
ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔ اللہ آپ کا بھلا کرے۔ ہندوستان اور بنگال خوشحال ہوں۔‘‘
کولکاتہ میں ریڈ روڈ پر پر عید الفطر کی نماز کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے نام ایس آئی آر سے ہٹائے جا رہے ہیں اور اس مسئلہ کو لے کر وہ کولکاتہ سے لے کر دہلی تک گئیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ آف انڈیا تک اس معاملے کو اٹھایا ہے، تاکہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔
خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ بنگال کے ہر انسان کے ساتھ کھڑی ہیں، خواہ وہ کسی بھی ذات، مذہب یا برادری کا ہو۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس لڑائی کو آگے بھی جاری رکھیں گی اور کسی کو بھی لوگوں کے حقوق صلب نہیں کرنے دیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں وزیر اعظم مودی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ہم مودی جی کو اپنے حقوق چھیننے نہیں دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت بنگال کی حکومت کو زبردستی کنٹرول کرنا چاہتی ہے اور ریاست میں صدر راج نافذ کرنا چاہتی ہے۔
ممتا بنرجی نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت ڈرنے والی نہیں ہے۔ جو ڈرتے ہیں وہ ہار جاتے ہیں اور جو لڑتے ہیں وی زندگی میں آگے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا ابھی اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی ہر حال میں لوگوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ڈٹی رہے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی جے پی غنڈوں اور چوروں کی پارٹی ہے اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کچھ لوگ پیسے لے کر ووٹ تقسیم کر رہے ہیں اور ایسے لوگوں کو عوام پہچان چکی ہے۔ انہوں نے ایک کہاوت بھی کہی کہ ’مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے‘۔
ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔ اللہ آپ کا بھلا کرے۔ ہندوستان اور بنگال خوشحال ہوں۔ مغربی بنگال کو نشانہ بنانے والوں کو جہنم میں جانا چاہیے۔ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے، خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔ ہمارا صرف ایک ہی ارادہ ہے،بی جے پی کو ہٹانا اور ملک کو بچانا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔