سورت: سستے ڈالر کے لالچ میں بزنس مین نے گنوا دیے 6.50 لاکھ روپے
ٹھگوں نے نہ صرف تاجر کا بھروسہ جیتا، بلکہ فلمی انداز میں چکمہ دے کر پیسوں سے بھرا بیگ لے کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ غیر مجاز افراد کے ساتھ کرنسی کے تبادلے سے گریز کریں۔

اگر کوئی آپ سے کہے کہ وہ مارکیٹ ریٹ سے کافی سستے میں غیر ملکی کرنسی (ڈالر) دلا سکتا ہے تو خبردار ہو جائیے۔ گجرات میں سورت کے وراچھا علاقہ کے ایک پراپرٹی ڈیلر (زمین کے کاروباری) کے ساتھ سستے ڈالر کے نام پر 6.50 لاکھ روپے کی بڑی ٹھگی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ٹھگوں نے نہ صرف تاجر کا بھروسہ جیتا، بلکہ بیچ سڑک پر فلمی انداز میں چکمہ دے کر پیسوں سے بھرا بیگ لے کر رفو چکر ہو گئے۔
واقعہ کا آغاز یوگی چوک واقع تروپتی سوسائٹی کے رہائشی کملیش پراگ جی بھائی جوگانی کے ساتھ ہوا، جو زمین و مکان کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے دوست رجنی بھائی کو کچھ ڈالر کی ضرورت تھی۔ کملیش نے مدد کے لیے اپنے بیٹے گرو سے بات کی، جس نے اپنے دوست دوارکیش کے ذریعہ سلمان عرف تنیم کاپڑیا نامی نوجوان سے رابطہ کیا۔ سلمان نے دعویٰ کیا کہ وہ مارکیٹ ریٹ سے بہت کم قیمت پر ڈالر فراہم کروا دے گا۔
ٹھگوں نے مکمل منصوبہ بندی کے تحت تاجر کو جال میں پھنسایا۔ سب سے پہلے سلمان نے کملیش اور ان کے ساتھیوں کو بھوانی مندر کے پاس بلایا، جب وہ وہاں پہنچے تو سیکورٹی کا بہانہ بنا کر انہیں لال گیٹ علاقے کے ایک سنسان گلی میں لے گیا۔ وہاں سلمان نے پیسے گننے کے بہانے 6.50 لاکھ روپے نقد سے بھری تھیلی اپنے ہاتھ میں لے لی۔ بھروسہ دلانے کے لیے اس نے اپنے ایک ساتھی فیضل کو تاجر کے پاس ہی چھوڑ دیا اور خود ڈالر لانے کے بہانے بیگ لے کر گلی میں اندر چلا گیا۔ کافی دیر تک جب سلمان واپس نہیں آیا تو کملیش کو شک ہوا۔ اسی درمیان وہاں موجود فیضل نے پکڑے جانے کے ڈر سے اچانک جھگڑے کا ناٹک شروع کر دیا اور شور شرابے کا فائدہ اٹھا کر موقع سے فرار ہو گیا۔
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق ٹھگی کا احساس ہوتے ہی متاثرہ تاجر نے فوراً لال گیٹ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے سلمان اور فیضل کے خلاف دھوکہ دہی کا معاملہ درج کر لیا ہے۔ آس پاس کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کے بھاگنے کے روٹ کا پتہ لگایا جا سکے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مجاز افراد کے ساتھ کرنسی کا تبادلہ کرنے سے گریز کریں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔