
آئی اے این ایس
گوہاٹی: اروناچل پردیش کے ضلع لوئر سوبن سیری میں شدید بارش اور اچانک آنے والے سیلاب کے بعد آسام حکومت نے ریاست بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک سے دو دن کے دوران متعدد نشیبی اضلاع میں دریاؤں کے پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو سکتی ہے، جس کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
Published: undefined
سرکاری بیان کے مطابق دریائے سوبن سیری کے بالائی آبی ذخیرہ علاقوں میں غیر معمولی بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں اچانک سیلاب کی کیفیت پیدا ہوئی اور دریا کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ علاقائی محکمہ موسمیات گوہاٹی اور موسمیاتی مرکز ایٹا نگر سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق لوئر سوبن سیری ضلع کے یازالی اسٹیشن پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 72 اعشاریہ 8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی اور جس میں صبح 6 بجے سے 9 بجے کے درمیان سب سے زیادہ بارش ہوئی۔
Published: undefined
سیٹلائٹ اور ریڈار تصاویر سے معلوم ہوا کہ صبح 6 بجے سے ساڑھے 7 بجے کے درمیان ہونے والی موسلادھار بارش نے اچانک سیلاب کی صورتحال پیدا کی، جس کے باعث دریا کے پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صورتحال پنیور لوئر آبی برق منصوبہ علاقے میں دیکھی گئی، جسے پہلے رنگانادی آبی برق منصوبہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔
حکام کے مطابق پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کے سبب اضافی پانی کے اخراج کے لیے منصوبے کے ایک اسپل وے دروازے کو کھولنا پڑا۔ یازالی علاقے سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملبے کے ساتھ آنے والے سیلابی ریلے نے کئی مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔
Published: undefined
ایک سینئر سرکاری افسر نے بتایا کہ سیلابی لہر سب سے پہلے دھیم جی، لکھیم پور، بسوناتھ اور سونیت پور اضلاع کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے بعد پانی مغربی آسام کی جانب بڑھتے ہوئے آئندہ ایک یا دو روز میں دھوبری ضلع تک پہنچ سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی ہدایت پر چیف سکریٹری روی کوٹا نے صورتحال کا جائزہ لیا اور تمام متعلقہ محکموں کو زیادہ سے زیادہ چوکسی اختیار کرنے اور ممکنہ آفت سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو مسلسل نگرانی جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس، قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیموں کو بھی فوری تعیناتی کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined