زراعت پر موسم کی مار: مانسون میں 42 فیصد کی بھاری گراوٹ، 315 اضلاع کو بچانے کے لیے مرکزی حکومت پرعزم

315 اضلاع میں سے 111 کو ’اعلیٰ ترجیح‘ والے زمرے میں رکھا گیا ہے، جہاں آبپاشی کی سہولت 25 فیصد سے کم ہے۔ 76 اضلاع ’درمیانی ترجیح‘ والی کیٹیگری میں آتے ہیں، جہاں آبپاشی کی سہولت 50-25 فیصد کے درمیان ہے۔

<div class="paragraphs"><p>شیوراج سنگھ چوہان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

رواں مانسون سیزن میں ’ال نینو‘ کے اثر کے درمیان 23 جون تک ہندوستان میں بارش میں 42 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے حکومت نے خریف کی فصلوں کو بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ حکومت نے کم بارش اور آبپاشی کی کمی والے 315 اضلاع کی نشاندہی کی ہے اور ریاستوں کو ضلع وار ایکشن پلان تیارن کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے منگل (23 جون) کو کمزور مانسون سے نمٹنے کی ملک کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے زرعی پیداوار پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے پانی کی بچت، فصلوں کی تنوع اور سائنسی طریقے سے بوائی کرنے پر زور دیا۔ تاریخی طور پر ال نینو کے موسمی نظام کا تعلق اوسط سے کم بارش اور خریف کی فصلوں کی کم پیداوار سے رہا ہے۔

حکومت نے 2026 کے خریف سیزن کے لیے اناج کی پیداوار کا ہدف تقریباً 176 ملین ٹن طے کیا ہے، جو گزشتہ سال کے سیزن کی پیداوار کے برابر ہی ہے۔ اب تک کم بارش کے باوجود 22 جون تک 11.99 ملین ہیکٹر زمین پر فصلوں کی بوائی ہو چکی ہے، جو ایک سال پہلے کے 11.79 ملین ہیکٹر سے تھوڑی زیادہ ہے۔ وزیر زراعت نے یہ بھی کہا کہ سویابین کی بوائی پیچھے چل رہی ہے۔ وزارت زراعت اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) نے مل کر بارش کے پیٹرن، آبپاشی کی سہولت اور مقامی موسمی حالات کے سائنسی ڈیٹا کا استعمال کر کے کم بارش والے حساس اضلاع کی نشاندہی کی ہے۔


نشاندہی کیے گئے 315 اضلاع میں سے 111 کو ’اعلیٰ ترجیح‘ والی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے، جہاں آبپاشی کی سہولت 25 فیصد سے کم ہے۔ 76 اضلاع ’درمیانی ترجیح‘ والی کیٹیگری میں آتے ہیں، جہاں آبپاشی کی سہولت 50-25 فیصد کے درمیان ہے۔ جبکہ 128 اضلاع کو نسبتاً کم حساس مانا گیا ہے کیونکہ وہاں آبی ذخائر اور دیگر ذرائع سے آبپاشی کی بہتر سہولت دستیاب ہے۔ ان میں سے زیادہ تر اضلاع مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، گجرات، اترپردیش، راجستھان، کرناٹک، بہار، جھارکھنڈ، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور اوڈیشہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بارش کی ممکنہ کمی سے نمٹنے کے لیے آئی سی اے آر نے ضلعی سطح پر ہنگامی منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان میں بارش پر منحصر علاقوں میں آمدنی کے نقصان کو کم کرنے کے لیے متبادل فصلوں کے انتخاب اور بوائی کے ترمیمی شیڈول کی سفارش کی گئ ہے۔

ترمیمی شیڈول کی سفارشات درج ذیل ہیں:

  1. مانسون کی پیشرفت پر جائزہ میٹنگ کے بعد شیوراج سنگھ چوہان نے صحافیوں سے کہا کہ ’’مجموعی طور مانسون کی بارش میں 43 فیصد کی کمی ہے۔‘‘

  2. محکمہ موسمیات کا اندازہ ہے کہ کمزور مانسون 2 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خریف کی فصلوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

  3. وزارت نے ریاست وار ہنگامی منصوبے تیار کیے ہیں، جن میں کم بارش کی صورتحال کے سازگار متبادل فصلوں کی سفارش کی گئی ہے۔

  4. ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کم پانی کی ضرورت والی دالوں، تلہنوں اور موٹے اناجوں کو فروغ دیں اور کسی ایک فصل پر انحصار کرنے کے بجائے کم وقت میں تیار ہونے والی اور آب و ہوا کے موافق بیجوں کی اقسام اپنانے کے لیے حوصلہ افزائی کریں۔

  5. مرکزی وزیر نے کہا کہ بارش میں کمی ہے۔ ہمیں کسانوں کو متبادل فصلیں اپنانے کا مشورہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم کھیتوں کو خالی نہیں رہنے دیں گے۔

  6. شیوراج سنگھ چوہان کے مطابق اس سیزن کے لیے بیج اور کھاد کی وافر مقدار دستیاب ہے۔ آبی ذخائر میں پانی کی سطح اب بھی گزشتہ سال کے مقابلے زیادہ ہے، حالانکہ اس میں کمی آ رہی ہے۔

  7. ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پانی کا سمجھداری سے استعمال کریں اور آبپاشی کی ضروریات کے لیے پانی بچانے کے مقصد سے ’وی بی-گرام جی‘ (وکست بھارت روزگار گارنٹی اور آجیویکا مشن گرامین) پروگرام کے تحت تالابوں، ندیوں، کھیتوں کے تالابوں اور چیک ڈیموں کی صفائی کریں۔

  8. وزارت نے منتخب ریاستوں میں فصل بیمہ اسکیموں اور کسان کریڈٹ کارڈ کے تحت بڑے پیمانے پر رجسٹریشن کرنے کو کہا ہے۔

  9. 731 کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) سے کہا گیا ہے کہ وہ کسانوں تک اپنی رسائی بڑھائیں اور ایس ایم ایس، واٹس ایپ، کال سنٹرز اور دیگر ذرائع سے وقت بہ وقت مشورے پہنچائیں۔

  10. پیداوار کے تخمینے پر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ معمول کے حالات پر مبنی ہیں، لیکن انہوں نے یقین دلایا کہ ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ پیداوار میں کوئی کمی نہ آئے۔

  11. وزارت نے ریئل ٹائم نگرانی اور مشورے دینے کے لیے ایک ’ال نینو مانیٹرنگ سیل‘ اور ’کراپ ویدر واچ گروپ‘ قائم کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔