قومی خبریں

انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ: مہیلا کانگریس صدر الکا لامبا کا بی جے پی پر حملہ، وی آئی پی زاویے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملے میں بی جے پی پر شواہد مٹانے اور وی آئی پی کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور مکمل انصاف کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا / ویڈیو گریب</p></div>

مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا / ویڈیو گریب

 

مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے ہفتہ کو اتراکھنڈ کے انکیتا بھنڈاری قتل معاملے میں بی جے پی اور ریاستی حکومت پر شدید الزامات عائد کیے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انکیتا بھنڈاری، جو بی جے پی لیڈر ونود آریہ کے ریزورٹ میں ملازمت کرتی تھیں، پر وی آئی پی مہمانوں کو غیر اخلاقی خدمات فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، لیکن انکیتا کے انکار کے بعد انہیں قتل کر کے لاش نہر میں پھینک دی گئی۔

Published: undefined

الکا لامبا کے مطابق انکیتا کو ملازمت کرتے ہوئے ابھی ایک مہینہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ 18 ستمبر 2022 کو ان پر دباؤ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد 19 سے 22 ستمبر تک پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی اور صرف گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 23 ستمبر کو مقامی بی جے پی کی رکن اسمبلی رینو بشٹ نے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی ہدایت پر ریزورٹ پر بلڈوزر چلا دیا، جس کا مقصد وہاں موجود تمام شواہد کو ختم کرنا تھا، کیونکہ انکیتا اسی ریزورٹ میں رہائش پذیر تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ 24 ستمبر کو انکیتا کی لاش نہر سے برآمد ہوئی، جس کے بعد ان کے والدین نے آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ معاملہ عوامی سطح پر سامنے آنے کے بعد ونود آریہ کے بیٹے پلکت آریہ، سورو بھاسکر اور انکت گپتا کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شدید دباؤ کے نتیجے میں اکتوبر 2022 میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے کر جانچ سونپی گئی۔

Published: undefined

مہیلا کانگریس صدر نے کہا کہ عدالت کی جانب سے تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ وی آئی پی کون تھا، جس کے لیے انکیتا پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت ایک دن میں نوٹ بندی جیسے فیصلے کر سکتی ہے تو تین برس میں انکیتا کو مکمل انصاف کیوں نہیں ملا۔

الکا لامبا نے کہا کہ انکیتا کے والد اجے کمار اور دشینت کمار مسلسل کچھ نام لے رہے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان افراد سے تفتیش ہوئی یا نہیں۔ انہوں نے بلڈوزر کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر عدالتی حکم کے ایسا قدم کیوں اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے وی آئی پی کی شناخت عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی اور اگر جانچ میں کسی بااثر شخص کا نام سامنے نہیں آیا تو اس کی واضح تردید کیوں نہیں کی گئی۔

Published: undefined

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وی آئی پی زاویے کی آزادانہ تحقیقات ہو، شواہد مٹانے کے احکامات دینے والوں اور اس میں شامل رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جائے، خواتین کے کام کی جگہوں پر تحفظ سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل ہو اور سیاسی سرپرستی فراہم کرنے والوں کی جوابدہی طے کی جائے۔ الکا لامبا نے کہا کہ مرکزی تحقیقاتی ادارہ بغیر دباؤ کے مقررہ مدت میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے تاکہ انکیتا بھنڈاری کو حقیقی انصاف مل سکے۔

Published: undefined