سنجے راؤت ہتکِ عزت کیس میں سیشن عدالت سے بری، کہا- ’آج میں اور میری پارٹی خوش ہیں‘

ممبئی کی سیشن عدالت نے ہتکِ عزت کے مقدمے میں سنجے راؤت کو بری کر دیا۔ نچلی عدالت نے 15 دن کی سزا سنائی تھی جسے اپیل میں کالعدم قرار دے دیا گیا۔ راؤت نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا

<div class="paragraphs"><p>سنجے راؤت / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ممبئی کی ایک سیشن عدالت نے شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے راؤت کو ہتکِ عزت کے ایک مقدمے میں بڑی راحت دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ میدھا سومیا کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کیریٹ سومیا کی اہلیہ ہیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد سنجے راؤت نے اسے سچ کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج وہ خود بھی خوش ہیں اور ان کی پارٹی بھی اس فیصلے سے مطمئن ہے۔

فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ انہیں اس مقدمے میں بڑی راحت ملی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نچلی عدالت نے انہیں 15 دن کی سادہ قید کی سزا سنائی تھی۔ راؤت کے مطابق میرا بھیندر میونسپل کارپوریشن میں ایک مبینہ گھوٹالے کا معاملہ سامنے آیا تھا، جس پر اسمبلی میں بھی بحث ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی رکن اسمبلی پرتاپ سرنائک نے بھی اس سلسلے میں شکایت درج کرائی تھی اور اسی بنیاد پر انہوں نے بیان دیا تھا، اس لیے ہتکِ عزت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


میدھا سومیا نے الزام عائد کیا تھا کہ سنجے راؤت نے میڈیا میں ان کے اور ان کے شوہر کے خلاف جھوٹے اور توہین آمیز بیانات دیے، جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ راؤت نے میرا بھیندر میونسپل کارپوریشن علاقے میں عوامی بیت الخلا کی تعمیر کے نام پر 100 کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کا الزام لگایا تھا۔ سومیا کا مؤقف تھا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں بدنام کرنے کی نیت سے لگائے گئے۔

اس مقدمے میں مجسٹریٹ عدالت نے سنجے راؤت کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 15 دن قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ تاہم اپیل دائر کرنے کے لیے سزا پر عارضی روک لگا دی گئی تھی۔ بعد ازاں راؤت نے سیشن عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

سیشن عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور جمعرات کو سنائے گئے حکم میں مجسٹریٹ عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سنجے راؤت کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ راؤت نے اسے قانونی جدوجہد کی کامیابی قرار دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔