14 برس سے زائد عمر کی لڑکیوں کے لیے ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کا آغاز، سروائیکل کینسر میں کمی کی امید

ایمس کے شعبہ امراض نسواں کی ایڈیشنل پروفیسر ڈاکٹر سیما سنگھل نے کہا کہ اگر ویکسین چھوٹی لڑکیوں کو دی جائے تو اس سے قبل از وقت کینسر اور کینسر ہونے کا خطرہ تقریباً 90 سے 95 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک بھر میں 14 سال اوراس سے زیادہ عمرکی لڑکیوں کے لیے ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ٹیکہ کاری مہم شروع ہونے والی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں سروائیکل کینسرمیں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ مرکزی وزارت صحت کے حکام نے کہا کہ اس مہم میں ہرسال 14 برس کی ہونے والی تمام 1.15 کروڑ لڑکیوں کا احاطہ کیا جائے گا اور یہ ہندوستان کے یونیورسل امونائزیشن پروگرام (یوآئی پی) سے الگ ایک خاص پروگرام کے طور پر چلے گا۔ ویکسین رضاکارانہ ہو گی اور سرکاری ہیلتھ کیئر سہولیات کے ذریعے مفت فراہم کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ، جو تقریباً دو سال سے تیار ہورہا ہے، عام بجٹ میں کئے گئے اعلان کے بعد آیا ہے کہ حکومت 9 سے 14 سال کی لڑکیوں کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن کو فروغ دے گی۔ افسران نے بتایا کہ حکومت نے تب سے ہدف کو خاص طور پر14 برس کی عمر تک محدود کر دیا ہے، یہی وہ عمر ہے جس میں ویکسین سب سے زیادہ تحفظ فراہم کرتی ہے۔ سروائیکل کینسر ہندوستان میں خواتین میں دوسرا سب سے عام کینسر ہے۔ وزارت کے افسران نے بتایا کہ ملک میں ہر سال تقریباً 80 ہزار نئے معاملے سامنے آتے ہیں اور 42 ہزار سے زیادہ خواتین کی اس بیماری سے موت ہو جاتی ہے۔ یعنی تقریباً ہر 8 منٹ میں ایک خاتون کی جان جاتی ہے۔ دنیا بھر میں سروائیکل کینسر کے کل کیسیز میں سےتقریباً پانچواں حصہ ہندوستان کا ہے۔


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) سروائیکل کینسر کو سب سے زیادہ روکے جاسکنے والے کینسر میں سے ایک بتایا ہے بشرطیکہ ویکسینیشن اور اسکریننگ آسانی سے دستیاب ہو۔ بتادیں کہ ہیومن پیپیلوما وائرس ایک عام جنسی طور پر منتقل ہونے والا انفیکشن ہے جس کا زیادہ تر جنسی طور پر متحرک افراد اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موقع پر تجربہ کرتے ہیں۔ زیادہ تر معاملات میں جسم ایک یا دو سال میں خود ہی وائرس کو صاف کر دیتا ہے۔ مشکل تب ہوتی ہے جب ایسا نہیں ہوتا۔ ہائی رسک والے ایچ وی پی ٹائپ کا مسلسل انفیکشن دنیا بھر میں سروائیکل کینسر کے تقریباً 95 فیصد کیسز کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ وائرس دوسرے کینسر سے بھی منسلک ہے۔

وائرس کی سب سے زیادہ خطرناک قسمیں خاص طور پر 16 اور 18 گریوا میں خلیے کی غیر معمولی تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں پہلے قبل از کینسر زخموں کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر ابتدائی طور پر پتہ نہ چلے اور علاج نہ کیا جائے تو یہ زخم 10 سے 15 سال میں سروائیکل کینسر میں بدل سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایمس، نئی دہلی کے شعبہ امراض نسواں کی ایڈیشنل پروفیسر ڈاکٹر سیما سنگھل نے کہا کہ ویکسینیشن اس بیماری کو بڑھنے سے روکنے کے سب سے مؤثر طریقوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہائی رسک ایچ پی وی وائرس کے خلاف موثر ہے۔ اگر یہ ویکسین چھوٹی لڑکیوں کو دی جائے تو اس سے قبل از وقت کینسر اور کینسر ہونے کا خطرہ تقریباً 90 سے 95 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔