
فضائی آلودگی نے ہندوستان کی کئی ریاستوں میں عوام کے لیے سانس لینا دشوار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ بار بار ریاستی حکومتوں، خصوصاً پنجاب حکومت کو ہدایت دے رہا ہے کہ حالات بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں لیکن کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا۔ اب نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے بھی مختلف شہروں میں بگڑتے ہوا کے معیار (اے کیو آئی) سے متعلق عرضیوں پر سماعت کی۔ ٹریبونل نے ریاستوں میں بڑھتی فضائی آلودگی کو لے کر اظہارِ فکر کیا ہے اور کچھ ریاستوں کی حکومتوں کو پھٹکار بھی لگائی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیہ پردیش، گجرات اور بہار حکومت کے وکلاء نے سماعت کے دوران بتایا کہ انھوں نے جواب داخل کر دیا ہے۔ اتر پردیش کے وکیل نے کہا کہ سبھی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ہدایات پر عمل آوری ہوگی۔ حالانکہ نیشنل گرین ٹریبونل نے پنجاب آلودگی کنٹرول بورڈ کو شدید پھٹکار لگائی ہے۔ این جی ٹی نے سوال کیا ہے کہ کیا کہیں کسی طرح کی بہتری ہوئی ہے؟ کوئی بھی ایک ایسی جگہ بتائیں جہاں حالات بہتر ہوئے ہوں۔ ٹریبونل نے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ جو رپورٹ داخل کی گئی ہے اور جو سیٹلائٹ تصویریں سامنے آئی ہیں وہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔
این جی ٹی نے پنجاب حکومت سے کہا کہ ’’آپ کے یہاں کے لوگوں کا آخر کیا ہوگا! پنجاب کے شہر دھوئیں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ شکر ہے کہ آج بارش ہو گئی۔ اوپر والے نے آپ کو بچا لیا۔ حالانکہ اوپر والے کو بھی پتہ چل گیا کہ آپ سے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔‘‘ ٹریبونل نے ہریانہ کے حالات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ٹریبونل نے کہا کہ ہریانہ میں سب سے زیادہ مقامات پر آلودگی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ فتح آباد کو دیکھیے، 3 نومبر کے بعد سے اس میں بہتری نہیں ہوئی ہے۔ یہ بہت فکر انگیز ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔