رام مندر چندہ تنازعہ: اجے رائے کا وزیر اعظم سے آزادانہ جانچ اور آڈٹ کا مطالبہ، کہا- ’تعمیر کا کریڈٹ لیا، تو جواب دہی بھی قبول کریں‘

اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے رام جنم بھومی مندر کے چندے اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر وزیر اعظم کو خط لکھ کر آزادانہ جانچ، مالی آڈٹ اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

لکھنؤ: اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے ایودھیا کے رام مندر میں چندے اور مالی بے ضابطگیوں کے مبینہ معاملے پر وزیر اعظم کو خط لکھتے ہوئے آزاد فرانزک جانچ، مالی آڈٹ اور ذمہ دار افراد کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مرکزی حکومت نے مندر کی تعمیر، افتتاح اور پران پرتشٹھا کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے تو اب مندر کے چندے، مالی انتظام اور انتظامی شفافیت سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا بھی واضح جواب دینا چاہیے۔

اجے رائے نے اپنے خط میں کہا کہ ایودھیا کا شری رام جنم بھومی مندر کروڑوں لوگوں کی عقیدت اور ثقافتی شعور کا مرکز ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی قسم کے مالی یا انتظامی سوالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق جمہوری نظام میں کسی منصوبے کا کریڈٹ لینے کے ساتھ اس سے وابستہ ادارہ جاتی جواب دہی بھی قبول کرنا ضروری ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسی معاملے میں پہلے ہی اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کو بھی خط لکھ چکے ہیں، جس میں آزاد فرانزک جانچ اور مالی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت کے نمائندے اصل سوالات کے جواب دینے کے بجائے اپوزیشن پر سیاسی الزامات عائد کر رہے ہیں، جس سے عوام کے ذہنوں میں مزید شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔


اجے رائے کا کہنا تھا کہ اگر مندر کے چندے اور مالی انتظام سے متعلق لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں تو آزاد فرانزک جانچ اور مالی آڈٹ کے ذریعے حقیقت خود سامنے آ جائے گی۔ لیکن اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف غیر جانبدارانہ اور سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مندر کی تعمیر اور انتظام سے وابستہ ٹرسٹ کے عہدے داروں اور متعلقہ انتظامی افسران کی جواب دہی بھی طے کی جانی چاہیے۔ اگر کسی افسر نے بے ضابطگی کی اطلاع حکومت کو نہیں دی تو یہ اس کی ذمہ داری سے غفلت ہوگی، اور اگر اطلاع دی گئی تھی تو حکومت نے اس پر کیا کارروائی کی، اس کی بھی عوام کے سامنے وضاحت ہونی چاہیے۔

اجے رائے نے کہا کہ شری رام جنم بھومی مندر کسی ایک سیاسی جماعت یا تنظیم کی ملکیت نہیں بلکہ پورے ملک کی مشترکہ مذہبی اور ثقافتی وراثت ہے۔ اس لیے مندر کے انتظام، چندے اور شفافیت سے متعلق سوال اٹھانا کسی سیاسی جماعت کی مخالفت نہیں بلکہ قومی وراثت کے وقار کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔