پاکستان میں آلودہ سرنجوں سے 78 بچوں میں ایچ آئی وی، عدالتی مداخلت کے بعد تحقیقات کا آغاز

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایک سرکاری اسپتال میں آلودہ یا دوبارہ استعمال کی گئی سرنجوں کے باعث 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق کے بعد عدالت کی مداخلت پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایک سرکاری اسپتال میں علاج کے دوران آلودہ یا دوبارہ استعمال کی گئی سرنجوں کے استعمال سے 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہونے کے معاملے میں کئی ماہ بعد باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس حساس معاملے نے ایک بار پھر طبی مراکز میں انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں، محفوظ طبی طریقۂ کار اور مریضوں، خصوصاً بچوں، کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے سرکاری ’کلثوم بائی والیکا اسپتال‘ میں اٹھہتر بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس نومبر میں معاملہ سامنے آنے کے باوجود ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی آزادانہ تحقیقات کرائی گئیں، جس کے باعث انہیں انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے حکومت کو دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے اور یہ واضح کرنے کا حکم دیا ہے کہ بچوں میں انفیکشن پھیلنے کی اصل وجہ کیا تھی۔ عدالت کی ہدایت کے بعد متعلقہ حکام نے تحقیقات کا عمل شروع کر دیا ہے۔


متاثرہ خاندانوں کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسپتال میں ایک بار استعمال کے لیے تیار کی جانے والی سرنجوں کو دوبارہ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں 200 سے زیادہ بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔ تاہم سرکاری سطح پر اس تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ اہل خانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ متاثرہ بچوں میں سے 9 کی موت ہو چکی ہے، لیکن حکام نے اس کی بھی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

درخواست میں اس واقعے کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نہ صرف انفیکشن سے بچاؤ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ متاثرہ بچوں کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے بھی مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے مارچ کے درمیان سندھ میں ایچ آئی وی کے 894 نئے معاملات سامنے آئے، جن میں 329 بچے شامل تھے۔ ان اعداد و شمار نے ماہرین صحت کی تشویش میں مزید اضافہ کیا ہے اور محفوظ طبی طریقۂ کار پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

پاکستان میں اس سے قبل بھی غیر محفوظ طبی طریقوں کے باعث ایچ آئی وی کے بڑے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ 2019 میں سندھ کے رتوڈیرو میں سینکڑوں بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی۔ بعد میں عالمی ادارۂ صحت کی تحقیقات میں غیر محفوظ انجیکشن طریقۂ کار کو اس پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا تھا۔


ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ہر طبی مرکز میں صرف ایک بار استعمال ہونے والی سرنجوں کا دوبارہ استعمال ہرگز نہیں ہونا چاہیے، انفیکشن سے بچاؤ کے تمام ضابطوں پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے اور مریضوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔