دہلی: روہنی میں بارش کے دوران 4 منزلہ عمارت منہدم، ایک شخص ہلاک، ملبے میں مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ
دہلی کے روہنی سیکٹر 16 میں مسلسل بارش کے دوران ایک عمارت گرنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا، جبکہ کئی افراد کے ملبے تلے دبنے کا خدشہ ہے۔ راحت و بچاؤ کا کام جاری ہے اور حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں

نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی میں مسلسل بارش کے دوران بدھ کی شام روہنی کے سیکٹر 16 میں ایک چار منزلہ عمارت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص کی موت ہو گئی، جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حادثے کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی اور راحت و بچاؤ کی ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔
یہ حادثہ روہنی سیکٹر 16 میں میونسپل اسکول کے قریب پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی دہلی فائر سروس، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ آخری اطلاع موصول ہونے تک ملبہ ہٹانے اور اس میں پھنسے ممکنہ افراد کو محفوظ باہر نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر راحتی کارروائی جاری تھی۔
پولیس حکام کے مطابق حادثے کی اطلاع شام تقریباً چار بج کر بیس منٹ کے بعد موصول ہوئی۔ جائے وقوع پر موجود اعلیٰ پولیس افسر نے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک زخمی کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے، جبکہ خدشہ ہے کہ مزید افراد بھی اندر پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی تھیں۔
عینی شاہدین کے مطابق عمارت اچانک زور دار آواز کے ساتھ زمین بوس ہو گئی، جس کے باعث اطراف میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی لوگوں نے بھی ابتدائی مرحلے میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کی، تاہم بھاری ملبے کے باعث بعد میں پیشہ ور امدادی ٹیموں نے کارروائی اپنے ہاتھ میں لے لی۔
مقامی عوامی نمائندے نے کہا کہ اس وقت اولین ترجیح ملبے میں پھنسے تمام افراد کو بحفاظت باہر نکالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی کی غفلت یا لاپروائی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت کافی پرانی تھی اور مسلسل ہونے والی بارش کے باعث اس کی ساخت کمزور پڑ گئی تھی، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ عمارت گرنے کی اصل وجہ کا تعین تفصیلی تحقیقات کے بعد ہی کیا جائے گا۔ اس وقت یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ملبے کے نیچے کتنے افراد موجود ہیں۔
خبر تحریر کئے جانے تک راحتی ٹیمیں بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹا رہی تھیں، جبکہ علاقے کو حفاظتی حصار میں لے لیا گیا تاکہ امدادی کارروائیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جب تک تمام متاثرہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا، اس وقت تک تلاش اور بچاؤ کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔ حادثے کے بعد مقامی رہائشیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، خصوصاً مسلسل بارش کے باعث پرانی اور کمزور عمارتوں کی سلامتی کے حوالے سے نئے سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
