قومی خبریں

احمد آباد طیارہ حادثہ: ڈی این اے شناخت کا انتظار، آخری رسومات میں تاخیر متوقع

احمد آباد حادثے میں جھلسنے والے افراد کی شناخت ڈی این اے سے ہوگی، رپورٹ 72 گھنٹوں میں متوقع، لاشیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔ حادثہ میں صرف ایک شخص زندہ بچ سکا ہے

<div class="paragraphs"><p>احمد آباد طیارہ حادثہ کا معائنہ کرتی تحقیقاتی ٹیم / آئی اے این ایس</p></div>

احمد آباد طیارہ حادثہ کا معائنہ کرتی تحقیقاتی ٹیم / آئی اے این ایس

 
IANS

احمد آباد: گجرات کے احمد آباد میں جمعرات کو پیش آئے افسوسناک طیارہ حادثے کے بعد ہلاک شدگان کی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے سیمپل لینے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ چونکہ بیشتر لاشیں بری طرح جل چکی تھیں، اس لیے شناخت ممکن نہ تھی۔ اب ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر ان لاشوں کی ورثا سے شناخت کی جائے گی۔

Published: undefined

آئی اے این ایس کی رپورٹ میں حکام کے حوالہ سے بتایا گیا کہ تمام لاشوں کو پوسٹ مارٹم ہاؤس سے منتقل کر کے کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کر دیا گیا ہے تاکہ جب تک ڈی این اے رپورٹس موصول نہ ہوں، لاشیں خراب نہ ہوں۔ اگلے 72 گھنٹوں میں ڈی این اے رپورٹس آنے کی توقع ہے، جس کے بعد لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دی جائیں گی۔

یاد رہے کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایئر انڈیا کا ایک طیارہ، جو لندن جا رہا تھا، احمد آباد سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔ صرف ایک مسافر، وشواس کمار رمیش زندہ بچ سکا۔ رمیش نشست نمبر 11اے پر بیٹھے تھے اور ایمرجنسی ایگزٹ کے قریب تھے۔ وشواس کمار ہند نژاد برطانوی شہری ہیں۔

Published: undefined

حادثے کے فوری بعد ریاستی حکومت نے ریسکیو اور ریلیف کا کام شروع کر دیا۔ زخمیوں کے فوری علاج کے لیے اسپتالوں میں ’گرین کوریڈور‘ قائم کیا گیا تاکہ بروقت طبی امداد دی جا سکے۔

وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کے روز جائے حادثہ پر پہنچے اور تقریباً 20 منٹ تک حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے این ڈی آر ایف اور دیگر امدادی اہلکاروں سے تفصیلات لیں اور بعد ازاں احمد آباد کے سول اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے حادثے میں زندہ بچ جانے والے واحد مسافر وشواس کمار رمیش سے بھی بات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔

Published: undefined

وزیر اعظم کے ساتھ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپندر پٹیل، مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو اور ریاستی وزیر داخلہ ہرش سانگھوی بھی موجود تھے۔ اسپتال میں داخل کچھ زخمی طالب علم مقامی ہاسٹل سے تعلق رکھتے ہیں۔

حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ مکمل شناخت اور قانونی عمل کے بعد تمام لاشیں ان کے اہل خانہ کے سپرد کی جائیں گی۔ عوامی سطح پر اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور تحقیقات کے لیے ٹیمیں سرگرم ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined