قومی خبریں

شراب بندی معاملہ: پٹنہ ہائی کورٹ نے ایک روز میں ریکارڈ 463 لوگوں کو دی ضمانت، انتظامیہ کے تئیں اظہارِ ناراضگی

جسٹس رودر پرکاش مشرا نے حیرانی کا اظہار کیا کہ شراب کی بہت چھوٹی مقدار برآمد ہونے پر بھی لوگوں کو طویل عرصے تک سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑ رہا ہے۔

پٹنہ ہائی کورٹ
پٹنہ ہائی کورٹ تصویر آئی اے این ایس

پٹنہ ہائی کورٹ سے پیر (19 جنوری) کو ریکارڈ 463 لوگوں کو ضمانت دی گئی۔ معاملہ شراب بندی قانون سے متعلق تھا، جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں ملزمین کو ضمانت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ پیر کو جسٹس رودر پرکاش مشرا کی سنگل بنچ نے شراب سے منسلک 508 معاملوں کی سماعت کی تھی۔ رودر پرکاش مشرا کی بنچ نے قانون کے خراب نفاذ اور قلیل مقدار میں شراب ملنے پر بھی طویل جیل کی مدت کو دیکھتے ہوئے یہ تاریخی فیصلہ سنایا ہے، جس سے عدالتوں پر بوجھ کم ہوا۔ دیکھا جائے تو ریکارڈ 30 سیکنڈ فی کیس کی رفتار سے سماعت ہوئی۔

Published: undefined

عدالت نے پایا کہ قانون پر صحیح طریقے سے عمل نہیں ہو رہا ہے اور کم مقدار میں شراب ملنے پر بھی ملزمان طویل وقت تک جیل میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ اس سماعت میں تقریباً ہر معاملہ کی سماعت اوسطاً 30 سیکنڈ میں کی گئی، جو ایک بے مثال رفتار ہے۔ اس سے قبل ایک روز میں تقریباً 300 لوگوں کو ضمانت دی جا چکی ہے، لیکن اب 463 کے ساتھ یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ جسٹس رودر پرکاش مشرا نے حیرانی کا اظہار کیا کہ شراب کی بہت چھوٹی مقدار برآمد ہونے پر بھی لوگوں کو طویل عرصے تک سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑ رہا ہے۔

Published: undefined

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ شراب بندی کے معاملوں میں جیل بھیجنے کے پیمانوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ معمولی برآمدگی کے باوجود ملزمان کو جیل میں رکھنا تشویش ناک ہے۔ اس ریکارڈ سماعت نے یہ پیغام دیا ہے کہ قانون کا بوجھ عام لوگوں اور عدلیہ پر متوازن ہونا چاہیے، تاکہ بے قصور اور چھوٹے مجرموں کو غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ہی اسسٹنٹ پبلک پرازیکیوٹرز کی جانب سے مقدمات کو جلد نمٹانے کی کوششوں کو عدالت نے پسند کیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined