کرناٹک: درگاہ کی جانب تیر چلانے کا اشارہ کرنے والی ہرشیتا ٹھاکر سمیت 7 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج
’سید انصاری درگاہ‘ کے مجاور عبد القادر نے اس پورے معاملے کی پولیس سے شکایت کی۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر ہرشیتا ٹھاکر اور منتظمین سمیت 7 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔

کرناٹک کے بیلگاوی ضلع سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے والا ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ شکایت پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لوگوں سے تحمل برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ بیلگاوی کے مچھے گاؤں میں ایک درگاہ کی جانب تیر چلانے کے اشارے کی شکایت ملنے پر مہاراشٹر کی ہرشیتا ٹھاکر سمیت ہندوتوا تنظیموں کے 7 لیڈران کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اتوار (18 جنوری) کو ایک مقامی ہندو تنظیم نے ہرشیتا ٹھاکر کو مچھے میں ’اکھنڈ ہندو شماویس‘ پروگرام کے لیے بلایا تھا۔ پروگرام سے قبل منتظمین نے پورے گاؤں میں ایک جلوس نکالا تھا، جس میں ہرشیتا ٹھاکر کو ایک کھلی گاڑی میں لے جایا گیا تھا۔ جب گاڑی ’سید انصاری درگاہ‘ کے سامنے جا رہی تھی تو ہرشیتا ٹھاکر نے درگاہ کی جانب رخ کیا اور کئی مرتبہ تیر چلانے کے اشارے کیے۔
واضح رہے کہ ہرشیتا ٹھاکر کے بار بار درگاہ کی جانب تیر چلانے کے اشارے کے بعد ان کے حامیوں اور جلوس میں موجود کئی لوگوں نے نعرے لگانے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ان کی حرکتوں نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہرشیتان ٹھاکر نے بعد میں اپنی تقریر کے دوران کچھ اشتعال انگیز بیان بھی دیے، جس کی وجہ سے لا اینڈ آرڈر کے بگڑنے کا ڈر تھا۔
درگاہ کے مجاور عبد القادر نے اس پورے معاملے کی پولیس سے شکایت کی۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر ہرشیتا ٹھاکر اور منتظمین سمیت 7 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ ان میں سپریت سمپی شری کانت کامبلے، بیٹپا ترہال، شیواجی شاہپورکر، گنگارام تریہل اور کلپا شامل ہیں۔ یہ واقعہ مچھے گاؤں کے پاس پیرنوادی علاقے میں پیش آیا، جہاں جلوس درگاہ کے پاس سے گزر رہا تھا تبھی متنازعہ اشارے کیے گئے۔ پولیس اس پورے معاملے کی تحقیق میں مصروف ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔