’ختم ہوا بحران‘، پائلٹوں کی کمی کے متعلق ڈی جی سی اے کے ساتھ جائزہ میٹنگ میں انڈیگو کا دعویٰ
جائزہ میٹنگ میں انڈیگو نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ موجودہ منظور شدہ نیٹورک اور دستیاب کریو کی بنیاد پر 10 فروری 2026 کے بعد پروازوں کے منسوخ ہونے کا امکان نہیں ہے۔
گزشتہ سال دسمبر میں انڈیگو ایئرلائنس کی جانب سے آپریشنز میں مچنے والی افراتفری کے بعد سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کی اس معاملے پر گہری نظر ہے۔ شہری ہوابازی کی وزارت کے ذریعہ اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈی جی سی اے کی ہدایت کے بعد سے انڈیگو ایئرلائنس نے اب تک 4 ہفتہ واری رپورٹس، 3 فورٹ نائٹلی (14 روزہ) رپورٹس پیش کی ہیں۔ ساتھ ہی ڈی جی سی اے کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ جائزہ میٹنگوں میں حصہ لیا ہے۔ 20 جنوری کو ہوئی جائزہ میٹنگ میں انڈیگو کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہے۔
یہ بھی پڑھیں : انڈیگو ایئر لائنز پر 22 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد
انڈیگو کی جانب سے ڈی جی سی اے کی میٹنگ میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا کہ آپریشنز ضروریات کے مطابق پائلٹوں کی کافی دستیابی ہے۔ 10 فروری 2026 تک پائلٹوں کی صورتحال اس طرح ہے۔ ایئربس کیپٹن (پی آئی سی) کی ضروری تعداد 2280 اور دستیاب 2400 ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2050 ایئربس فرسٹ آفیسر کی ضرورت ہے اور 2240 دستیاب ہے۔
جائزہ میٹنگ میں انڈیگو نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ موجودہ منظور شدہ نیٹورک اور دستیاب کریو کی بنیاد پر 10 فروری 2026 کے بعد پروازوں کے منسوخ ہونے کا امکان نہیں ہے۔ 6 دسمبر 2025 کو دی گئی عارضی فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لیمیٹیشن (ایف ڈی ٹی ایل) چھوٹ بھی واپس لے لی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ڈی جی سی اے کے ذریعہ نگرانی جاری رہے گی، خاص طور سے روسٹر کی مضبوطی اور استحکام، پائلٹوں کی مسلسل دستیابی اور ایف ڈی ٹی ایل قوانین کی مکمل تعمیل کے حوالے سے۔ ڈی جی سی اے کے مطابق انڈیگو کے آپریشنز حالات اب کافی حد تک مستحکم ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ میٹنگ میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ آخرکار دسمبر میں پریشانی کیوں ہوئی؟ اس میں یہ پایا گیا کہ ایئرلائن کی منصوبہ بندی کے عمل نے آپریشنل کمیوں کی بہتر طریقے سے پہچان نہیں کی یا مناسب آپریشنل بفر برقرار نہیں رکھے۔ کریو، ایئرکرافٹ اور نیٹورک وسائل کے زیادہ استعمال پر بہت زیادہ توجہ دی گئی، جس کی وجہ سے روسٹر بفر مارجن کم ہو گئے۔ کریو روسٹرز کو ڈیڈ ہیڈنگ، ٹیل سویپ، توسیعی ڈیوٹی پیٹرن، اور کم سے کم ریکوری مارجن پر زیادہ انحصار کے ساتھ، اجازت شدہ ڈیوٹی ادوار کی حدود میں کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس نقطہ نظر نے روسٹر کی سالمیت اور آپریشنل لچک سے سمجھوتہ کیا اور نظر ثانی شدہ فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن (ایف ڈی ٹی ایل) کے التزامات کے مؤثر نفاذ پر منفی اثر ڈالا۔
قابل ذکر ہے کہ انڈیگو ایئرلائنس کو دسمبر 2025 کی شروعات میں بڑے آپریشنل رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پرواز میں تاخیر اور منسوخی کے مسائل پیش آئے تھے۔ یہ رکاوٹیں مناسب فلائٹ عملے کی بدانتظامی، آپریٹر کی سطح پر ناکافی ریگولیٹری تیاری اور سسٹم سافٹ ویئر سپورٹ، انتظامی ڈھانچہ اور آپریشنل کنٹرول میں کمی کی وجہ سے ہوئی تھیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔