انڈیگو ایئر لائنز پر 22 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد

انڈیگو کے چیئرمین وکرم سنگھ مہتا نے پیغام دیا ہے کہ  کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز اور انتظامیہ ڈی جی سی اے کے حکم کا مکمل نوٹس لے گی اور بروقت مناسب اقدامات کرے گی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے دسمبر کے پہلے ہفتے میں انڈیگو کی پروازوں میں پڑنے والے خلل کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ایئر لائن پر 22.20 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے اور ایک افسر کو عہدے سے ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ اسے حکم نامہ موصول ہو گیا ہے اور وہ اس کے مطابق اقدامات کرے گی۔

گزشتہ 3 دسمبر سے 5 دسمبر کے درمیان انڈیگو کی 2,507 پروازیں منسوخ ہوئی تھیں اور 1,852 پروازوں میں تاخیر ہوئی تھی۔ اگرچہ اس کے بعد بھی بڑے پیمانے پر خلل جاری رہا، لیکن ڈی جی سی اے نے اپنی کارروائی کے لیے صرف ان تین دنوں کو بنیاد بنایا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے 26 دسمبر کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔


انڈیگو کے چیئرمین وکرم سنگھ مہتا نے کمپنی کے اسٹیک ہولڈرز اور صارفین کے نام جاری پیغام میں کہا ہے کہ کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز اور انتظامیہ ڈی جی سی اے کے حکم کا مکمل نوٹس لے گی اور بروقت مناسب اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایئر لائنز نے اپنے اندرونی عمل کی مضبوطی کا جائزہ لینا بھی شروع کر دیا ہے تاکہ انڈیگو مستقبل میں مزید مضبوط ہو کر ابھرے۔

ڈی جی سی اےنے انڈیگو کے سی ای او پیٹر البرز کو تنبیہ کر کے چھوڑ دیا ہے جبکہ چیف آپریٹنگ آفیسر اسیڈور پورکرس کو ونٹر شیڈول اور فلائٹ ڈیوٹی سے متعلق نئے قوانین کے اثرات کا اندازہ لگانے میں ناکامی پر وارننگ جاری کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کمپنی کے سینئر نائب صدر (آپریشنز کنٹرول سینٹر) جیسن ہرٹر کو موجودہ ذمہ داریوں سےفارغ کرنے اور آئندہ کوئی بھی ذمہ دارانہ عہدہ نہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ کمپنی کے ڈپٹی چیف آف فلائٹ آپریشنز، ایڈیشنل وائس پریذیڈنٹ (کرو ریسورس مینجمنٹ) اور ڈائریکٹر فلائٹ آپریشنز کو بھی وارننگ جاری کی گئی ہے۔


انڈیگو سے 50 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی جمع کرانے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ جیسے جیسے کمپنی ڈی جی سی اے کی ہدایات کے مطابق اہداف حاصل کرتی جائے گی، بینک گارنٹی کی رقم اسے واپس ملتی جائے گی۔

ڈی جی سی اےنے شہری ہوا بازی سے متعلق شرائط کی چھ دفعات کی خلاف ورزی کرنے پر 30-30 لاکھ روپے کے الگ الگ جرمانے عائد کیے ہیں۔ وہیں، 5 دسمبر سے 10 فروری تک (68 دن کے لیے) کمپنی کو فلائٹ ڈیوٹی کے جس اصول میں چھوٹ دی گئی ہے، اس کے لیے روزانہ 30 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اس طرح کل 22.20 کروڑ روپے کا جرمانہ بھرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈی جی سی اے نے کہا ہے کہ اگر ایئر لائن اپنی اندرونی تحقیقات میں کسی دوسرے اہلکار کو بھی قصوروار پاتی ہے تو وہ اس کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی ہے۔


تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انڈیگو کی انتظامیہ نے عملے کے ارکان، طیاروں اور نیٹ ورک کے وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر پوری توجہ مرکوز رکھی، جس سے روسٹر میں پروازوں میں تاخیر یا ہنگامی صورتحال کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ عملے کا روسٹر اس طرح تیار کیا گیا تاکہ ان کی ڈیوٹی کے دورانیے کو زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے۔ اس سے آپریشنل لچیلا پن ختم ہوگئی۔
کمیٹی نے تحقیقات میں پایا کہ 'انڈیگو بحران' کی بنیادی وجوہات یہ تھیں کہ ایئر لائن نے قوانین میں تبدیلی کے مطابق مکمل تیاری نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ سسٹم سافٹ ویئر سپورٹ، انتظامی ڈھانچے اور آپریشنل کنٹرول میں بھی خامیاں تھیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔