ڈاکٹر محمد غالب نشتر کو معلوم ہے طلبا کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کا ہنر
محمد غالب نشتر نے آبائی وطن لاتیہار میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے تاریخی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ بی اے، بی ایڈ، ایم اے اور پی ایچ ڈی انھوں نے اے ایم یو سے ہی مکمل کی۔

’قومی آواز‘ کے ذریعہ نئی نسل کے اساتذہ سے انٹرویو پر مبنی سلسلہ ’سوال استاد سے‘ کی دوسری قسط حاضر خدمت ہے۔ اس بار جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کے دھروا واقع ’جے این کالج‘ میں شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر محمد غالب نشتر سے خصوصی گفتگو ہوئی، جس میں انھوں نے اپنے تعلیمی سفر، شعبۂ اردو کی سرگرمیوں اور جھارکھنڈ میں اُردو زبان کے مستقبل پر بات کی۔
ڈاکٹر محمد غالب نشتر کا مختصر تعارف
محمد غالب نشتر رانچی یونیورسٹی کے جگن ناتھ نگر کالج (دھروا، رانچی) میں صدر شعبۂ اُردو ہیں۔ ان کی پیدائش 1985 کو جھارکھنڈ کے ضلع لاتیہار واقع چھوٹے سے گاؤں شبلہ میں ہوئی۔ یہیں ان کے دادا حکیم محمد رفیق عالم اپنی پریکٹس کرتے تھے اور ماہر طبیب تھے۔ محمد غالب نشتر میں تدریس کا جذبہ اپنے والد ماسٹر محمد کلیم الدین سے پیدا ہوا، جنھوں نے 1989 میں پرائمری اسکول جوائن کیا تھا اور اب سبکدوش ہو چکے ہیں۔
محمد غالب نشتر نے آبائی وطن لاتیہار میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے تاریخی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ بی اے، بی ایڈ، ایم اے اور پی ایچ ڈی انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہی مکمل کی۔ 2015 میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرنے کے بعد رانچی میں بود و باش اختیار کی اور تدریس کا سلسلہ بھی مختلف تعلیمی اداروں میں شروع ہو گیا۔ 2022 میں ان کی تقرری جے این کالج میں ہوئی جہاں وہ بچوں کو بہت خوشگوار ماحول میں تعلیم دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد غالب نشتر کی کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں، جن میں ’اردو افسانہ: نئی جست‘، ’مظہر الاسلام کا فکشن‘، ’اردو افسانے کے تخلیقی رنگ‘ اور ’اردو افسانہ: بدلتا وقت اور نیا آہنگ‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کی ایک کتاب کو ’اتر پردیش اردو اکادمی‘ سے ایوارڈ بھی حاصل ہو چکا ہے اور جمشید پور واقع ٹاٹا اسٹیل کمپنی نے انھیں مجموعی ادبی خدمات کے لیے ’منظر کاظمی ایوارڈ‘ سے بھی نوازا ہے۔
————————————————————————————
کچھ جے این کالج سے متعلق بتائیں، اس کی کیا تاریخ رہی ہے؟
جگن ناتھ نگر کالج (جے این کالج)، دھروا، رانچی کا قیام 1972 میں ہوا اور اس کے پیچھے ایک خاص مقصد پوشیدہ تھا۔ دراصل اس کالج کی بنیاد ’ہیوی انجینئرنگ کارپوریشن‘ (ایچ ای سی) میں ملازمت کرنے والوں کے بچوں کی تعلیم کا خیال کرتے ہوئے ڈالی گئی تھی۔ بعد میں کالج کو عام بچوں کے لیے بھی کھول دیا گیا تاکہ سبھی اعلیٰ معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ چونکہ کالج شہر سے ملحق ہے، اس لیے ہر طرح کی بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ اس کالج میں انڈر گریجویٹ (یو جی) کے طلبا زیادہ ہیں، البتہ چند مضامین میں پوسٹ گریجویٹ (پی جی) کی سطح پر بھی پڑھائی ہوتی ہے۔

شعبۂ اردو میں کتنے طلبا و طالبات ہیں، ان کی حاضری اور اُردو کے تئیں دلچسپی کیسی ہے؟
شعبۂ اردو میں کم و بیش 20 طلبا و طالبات ہیں اور تعلیم کے تئیں ان کی دلچسپی انھیں کالج کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ بیشتر بچوں کی 65 سے 70 فیصد حاضری دیکھنے کو ملتی ہے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ اُردو کا مستقبل جھارکھنڈ میں تابناک ہے۔ لاک ڈاؤن کے وقت کئی طرح کے مسائل سامنے ضرور آئے تھے، لیکن پھر دھیرے دھیرے حالات معمول پر آ چکے ہیں۔ لاک ڈاؤن نے طلبا اور اساتذہ دونوں کو آن لائن کلاسز کا راستہ دکھایا تھا، جس کی وجہ سے طلبا میں آن لائن کلاس کرنے کا رجحان اب بڑھ گیا ہے۔ ایسی صورت میں استاد کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ تدریس کا کچھ ایسا دلچسپ طریقہ اختیار کریں، جو بچوں کو کالج آنے پر مجبور کرے۔ میری کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ بچوں کو نئی نئی چیزیں بتاؤں اور شعبۂ اُردو کی طرف سے مختلف تقاریب کا انعقاد کر انھیں تعلیمی و ادبی سرگرمیوں میں مصروف رکھوں۔ وقتاً فوقتاً توسیعی خطبہ کا پروگرام رکھتا ہوں، جس سے طلبا میں ایک الگ طرح کا جوش دیکھنے کو ملتا ہے۔

آپ صدر شعبۂ اردو ہیں، اس شعبہ میں مزید کوئی استاد نہیں، تنہا سبھی ذمہ داریاں ادا کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے؟
ظاہر ہے شعبۂ اُردو میں تنہا ہونے سے ذمہ داریاں کافی بڑھ جاتی ہیں، لیکن میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ان ذمہ داریوں کو منظم طریقے سے پورا کروں۔ کسی بھی استاد کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری طلبا کو پڑھانا ہے، اور میں ہمیشہ اپنے بچوں کو پورا وقت دیتا ہوں۔ ویسے بھی کوئی استاد اگر دلجمعی کے ساتھ ایک بیچ کو ایک گھنٹہ بھی روزانہ وقت دے دے، تو معاملہ آسان ہو جاتا ہے۔ تدریس کے علاوہ کالج کے دوسرے کاموں کے لیے ہمیشہ ایسے اوقات کا انتخاب کرنا ہی بہتر ہوتا ہے جب طلبا سے فراغت مل گئی ہو۔ میں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہوں۔

موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کی بہت اہمیت ہے۔ کیا آپ طلبا کو جدید تکنیک سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں؟ اس معاملہ میں طلبا کا رجحان کیسا ہے؟
موجودہ دور میں ٹیکنالوجی سے کسی کو دور رکھنا ممکن نہیں۔ نئی نسل تو اس معاملے میں بہت آگے ہے۔ صرف انھیں بہتر رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں کلاسز کے دوران ہمیشہ اپنے طلبا سے کہتا ہوں کہ وہ واٹس ایپ اور یوٹیوب پر بے کار چیزیں دیکھنے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں، بلکہ نئی تکنیک کا فائدہ اٹھا کر علمی ویڈیوز دیکھیں۔ وہ اِن پیج، کورل ڈرا، یونی کوڈ اور اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی جانکاری حاصل کریں۔ نئی تکنیک سے اُردو کے طلبا بھی بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔ اپنے طالب علموں کو میں بتاتا ہوں کہ اُردو کی دنیا بہت وسیع ہو چکی ہے، اس لیے انہماک کے ساتھ تعلیم حاصل کریں اور نئی تکنیک سے خود کو وابستہ کریں۔

ایک استاد کے ساتھ ساتھ آپ فکشن ناقد بھی ہیں، جھارکھنڈ میں اُردو ادب کی صورتحال پر کچھ روشنی ڈالیں۔
کچھ لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ اُردو زبوں حالی کی شکار ہے، لیکن جھارکھنڈ میں اُردو ادب کا مستقبل میں روشن دیکھ رہا ہوں۔ چھوٹا ناگپور میں تو اردو شعر و ادب کی توانا روایت رہی ہے۔ ابتدائی دنوں سے ہی یہاں کے شعرائے کرام نے مشاعروں میں شرکت فرما کر اردو شعر و ادب کی آبیاری کی۔ بعد کے دور میں وہاب دانش، پرکاش فکری، صدیق مجیبی، نادم بلخی، شاہد احمد شعیب، شعیب راہی، شائق مظفر پوری، سید احمد شمیم جیسے شعرا نے جھارکھنڈ کی نمائندگی کی۔ اسی طرح فکشن میں غیاث احمد گدی، الیاس احمد گدی، زکی انور، گربچن سنگھ، منظر کاظمی، ش. اختر، اختر یوسف وغیرہ نے اردو ادب کی جس طرح خدمت کی ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ دور پر نظر ڈالیں تو فکشن تنقید کے حوالہ سے ڈاکٹر ہمایوں اشرف، ڈاکٹر اختر آزاد، ڈاکٹر تسلیم عارف، ڈاکٹر عبدالباسط، ڈاکٹر جہانگیر، ڈاکٹر دانش حماد جاذب، محمد طیب جمشید پوری وغیرہ ایسے نام ہیں جو جھارکھنڈ میں اُردو ادب کے روشن مستقبل کی ضمانت تصور کیے جاتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔