تلنگانہ میں ’چکن شاپ آنرس ایسوسی ایشن‘ نے بدھ (یکم اپریل) سے پوری ریاست میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ریاست بھر میں تقریباً 50 ہزار سے زائد چکن کی دکانیں بند رہیں گی۔ دراصل پولٹری کمپنیوں کی جانب سے چکن کی فروخت پر منافع کا مارجن کم کرنے اور دکانداروں کو نقصان پہنچانے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔
Published: undefined
ایسوسی ایشن کے مطابق، کارپوریٹ آؤٹ لیٹس کو چھوڑ کر ریاست بھر میں چکن کی 50000 ریٹیل دکانیں بند رہیں گی۔ دکان مالکان کا کہنا ہے کہ فی کلو گرام چکن پر ملنے والا کمیشن کافی کم کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ 2 دہائیوں سے پولٹری کمپنیاں خوردہ دکانداروں کے لیے 26 روپے فی کلو گرام منافع مارجن برقرار رکھتی تھیں۔ حالانکہ حال ہی میں اس مارجن کو گھٹا کر 16 روپے فی کلو گرام کر دیا گیا ہے، جس سے دکانداروں میں شدید غم و غصہ ہے۔
Published: undefined
ایسوسی ایشن کے صدر نیلوتلا شیکھر نے کہا کہ چکن کی قیمتوں میں 400-350 روپے کے اضافے سے بھی خوردہ فروشوں کو فائدہ نہیں ہوا۔ ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے نے کہا کہ 16 روپے فی کلوگرام کے مارجن پر دکان چلانا جاری رکھنا ناممکن ہے۔ بجلی، کرایہ اور مزدوری کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ مارجن کو بڑھا کر 30 روپے فی کلوگرام کیا جائے تاکہ موجودہ معاشی حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس ہڑتال سے سپلائی پر بھاری اثر پڑنے کا خدشہ ہے، جس سے بازاروں میں چکن کی کمی ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جب تک پولٹری کمپنیاں بات چیت کے لیے آگے نہیں آتیں اور ان کے مطالبات پورے کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتی ہیں، تب تک ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں نے حکومت سے بڑی پولٹری کمپنیوں اور چھوٹے دکانداروں کے درمیان پیدا ہوئے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز