تلنگانہ میں سائبر جرائم کے خلاف بڑی کارروائی، ’آپریشن کریک ڈاؤن‘ تحت 208 گرفتار اور 100 کروڑ کی ٹھگی کا انکشاف
تلنگانہ سائبر سیکورٹی بیورو (ٹی جی سی ایس بی) نے بینکوں سے بھی اپیل کی ہے کہ ’کے وائی سی‘ کے عمل اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ سائبر جرائم کو روکا جا سکے۔

تلنگانہ میں تیزی سے بڑھتے سائبر جرائم کےمتعلق ایک حیران کن انکشاف ہوا ہے۔ ریاست میں سائبر ٹھگی کے ایک بڑے نیٹورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے تلنگانہ سائبر سیکورٹی بیورو (ٹی جی سی ایس بی) نے 208 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ گرفتار ملزمان میں 15 خواتین بھی شامل ہیں اور ان میں بینک ملازمین، سافٹ ویئر انجنیئر، لیکچرر اور طلبہ جیسے مختلف پیشوں سے منسلک افراد شامل ہیں۔
سائبر سیکورٹی بیورو نے اس بڑے مہم کو ’آپریشن کریک ڈاؤن 1.0‘ نام دیا ہے، جسے 25 فروری سے شروع کیا گیا تھا۔ اس مہم کے دوران ریاست بھر میں سائبر ٹھگی سے متعلق 1549 ایف آئی آر درج کی گئی اور 626 مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی۔ افسران کے مطابق گرفتار ہونے والے زیادہ تر افراد نام نہاد ’میول بینک اکاؤنٹس‘ چلا رہے تھے۔ ان کھاتوں کا استعمال سائبر ٹھگوں کی طرف سے غیر قانونی رقم کی لین دین کے لیے کیا جاتا تھا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزمان اپنے بینک کھاتوں کو سائبر مجرمان کو استعمال کرنے دیتے تھے اور بدلے میں ہر ٹرانزیکشن پر تقریباً 5 فیصد تک کمیشن لیتے تھے۔
شیکھا گوئل نے بتایا کہ اس گروہ کا نیٹورک بہت وسیع تھا اور معاشرے کے کئی طبقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ گرفتار ملزمان میں بینک آف مہاراشٹرا اور جبلی ہلز مرچنٹ کوآپریٹیو بینک کے 2 ملازمین بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازمین، سافٹ ویئر انجنیئر، 2 لکچرر اور محکمہ بجلی کا ایک سرکاری ملازم بھی گرفتار ہوا ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ ملزمان فرضی شناخت، جعلی کے وائی سی دستاویزات اور پراکسی موبائل نمبر کا استعمال کر آن لائن بینک اکاؤنٹس کھلوا رہے تھے۔ اس کے ذریعہ سائبر مجرمان ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں تیزی سے پیسے ٹرانسفر کر لیتے تھے اور اپنی شناخت چھپا لیتے تھے۔
اس بڑی مہم کے تحت پولیس نے پہلی بار ایک ساتھ ریاست کے 137 بینک شاخوں میں چھاپے مارے۔ 512 پولیس اہلکاروں کی 137 ٹیموں نے مل کر 1888 مشتبہ بینک اکاؤنٹس کی جانچ کی۔ یہ اکاؤنٹس ملک بھر میں درج 9451 سائبر جرائم کے معاملات سے منسلک پائے گئے، جن میں تقریباً 100 کروڑ روپے کی ٹھگی کا اندازہ ہے۔ کارروائی کے دوران پولیس نے 63 موبائل فون، 208 بینک پاس بک اور 208 چیک بک بھی ضبط کیے۔ ایک معاملے میں وارنگل میں ملزم سائبر ٹھگی کے پیسے اپنے خاندان کے اراکین کے اکاؤنٹس کے ذریعہ ٹرانسفر کیے تھے۔
افسران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان لوگوں کے لیے ایک سخت پیغام ہے جو اپنے بینک کھاتے سائبر مجرمان کو کرایے پر دیتے ہیں انہیں بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تلنگانہ سائبر سیکورٹی بیورو (ٹی جی سی ایس بی) نے بینکوں سے بھی اپیل کی ہے کہ کے وائی سی کے عمل اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ اس طرح کے جرائم کو روکا جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔