دہلی :عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے جانوروں سے کھچا کھچ بھر گئی ہیں مویشی منڈیاں

عید الاضحی کی آمد کے ساتھ دہلی کی مویشی منڈیوں میں خریداروں کی بھیڑ بڑھنے لگی ہے۔ قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے باوجود لوگوں میں خریداری کا جوش برقرار ہے

<div class="paragraphs"><p>تصاویر محمد تسلیم</p></div>
i
user

محمد تسلیم

google_preferred_badge

عید الاضحی قریب آتے ہی راجدھانی دہلی کی مویشی منڈیوں میں رونق بڑھنے لگی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اپنی پسند کے جانور خریدنے کے لیے منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بڑھتی لاگت کے باوجود قربانی کا جذبہ برقرار ہے اور خریدار قیمتوں میں اضافے کے باوجود جانور خریدنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔

جامع مسجد سے متصل مینا بازار کے اردو پارک اور حوض والے پارک میں لگنے والی مویشی منڈیاں ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ دن کے وقت خریداروں کی تعداد نسبتاً کم نظر آتی ہے، تاہم شام ڈھلتے ہی ماحول بدل جاتا ہے اور خاندانوں کے ساتھ لوگ قربانی کے جانور دیکھنے اور خریدنے کے لیے پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔

منڈیوں میں اس وقت بکرے، دنبے اور بھیڑ بڑی تعداد میں دستیاب ہیں۔ بیوپاریوں کے مطابق قربانی کے جانوروں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر بکرے خریدنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور لوگ کم قیمت میں اچھا، صحت مند اور خوبصورت جانور خریدنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ اس سال جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ منڈی میں 10 ہزار روپے سے لے کر 3 لاکھ روپے تک کے بکرے دستیاب ہیں۔ جانوروں کی قیمت کا انحصار ان کے وزن، نسل، جسامت اور دیکھ بھال پر ہوتا ہے۔ مختلف نسلوں کے بکرے خریداروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں جن میں میواتی، طوطا پری، بربرا، پنجابی، دیسی، گنگا پاری، ناک پھنا اور سوجت نسل کے بکرے شامل ہیں۔ خاص طور پر سوجت نسل کے بکرے اپنی سفید رنگت اور دلکش شکل کی وجہ سے زیادہ پسند کیے جا رہے ہیں۔


دہلی کی ان منڈیوں میں راجستھان، اتر پردیش، ہریانہ اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے بیوپاری قربانی کے جانور لے کر پہنچ رہے ہیں۔ کئی بیوپاری عارضی ڈیرے قائم کر کے کئی روز تک وہیں قیام کرتے ہیں تاکہ خریداروں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

بیوپاریوں کے مطابق جانوروں کی پرورش پر ہونے والے اخراجات میں اضافہ بھی قیمتیں بڑھنے کی ایک اہم وجہ ہے۔ جانوروں کے چارے، دیکھ بھال، ادویات اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہونے کے باعث قربانی کے جانور پہلے کے مقابلے میں مہنگے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خریدار جانور خریدتے وقت اچھی طرح جانچ پڑتال کریں اور قیمت پر مناسب بات چیت کے بعد خریداری کریں۔

سماجی ذرائع ابلاغ کے بڑھتے استعمال نے قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے انداز کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ کئی فارم اور بیوپاری اب اپنے جانوروں کی تصاویر اور ویڈیوز سماجی ذرائع ابلاغ پر پیش کرتے ہیں، جس کے ذریعے خریدار جانور دیکھ کر پسند کرتے ہیں اور بعد میں خریداری کا عمل مکمل کرتے ہیں۔

عید الاضحی کی آمد کے ساتھ دہلی کی مویشی منڈیوں میں سرگرمیاں مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ آئندہ دنوں میں خریداروں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث منڈیوں میں دیر رات تک چہل پہل برقرار رہنے کی امید ہے۔


محمد دلشاد پرانی دہلی کے رہنے والے ہیں اور گزشتہ تقریباً 20 برس سے بکروں کی دیکھ بھال اور ان سے متعلق مسائل پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بکروں کی پرورش اور دیکھ بھال کے حوالے سے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ محمد دلشاد کے مطابق سوشل میڈیا اور فون کے ذریعے بھی لوگ ان سے رابطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے خریداروں کو مشورہ دیا کہ قربانی کا جانور خریدتے وقت اچھی طرح جانچ پڑتال اور بھاؤ تاؤ ضرور کریں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔